انڈونیشیا میں طلبہ کا احتجاج ، 5 افراد ہلاک ،ارکان پارلیمان کی مراعات واپس لینے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

انڈونیشیا کی سیاسی جماعتوں نے اس امر پر اتفاق کر لیا ہے کہ وہ پارلیمان میں موجود ارکان کے لیے طے شدہ کئی قسم کی مراعات واپس لینے پر اعتراض نہیں کریں گے۔

یہ بات انڈونیشیا کے صدر پرابوبو سبیانتو نے اتوار کے روز بتائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب اس فیصلے سے جاری پرتشدد احتجاج ختم ہوجائے گا۔

یاد رہے انڈونیشیا کے طول و عرض میں پھیلے اس حالیہ احتجاج کے دوران 5 افراد کی ہلاکت ہوگئی۔ جبکہ پچھلی کئی دہائیوں میں جنوب مشرقی ایشیا کی اس سب سے بڑی معیشت کی حامل مملکت میں یہ شدید ترین احتجاج رہا۔

شہریوں کا یہ احتجاج ایک ہفتہ قبل پچھلے پیر کے روز شروع ہوا۔ جو مطالبہ کر رہے تھے کہ پارلیمان کے ارکان کو زیادہ الاؤنسز دیے جانے کے فیصلے کو واپس لیا جائے۔

یہ احتجاج جمعہ کے روز اس وقت پرتشدد ہوگیا جب ایک موٹر سائیکل چلانے والے کو پولیس نے احتجاج کے دوران قتل کر دیا۔

اس دوران احتجاجی مظاہرہ کرنے والوں نے کئی سیاسی رہنماؤں کے گھروں اور سرکاری عمارات کو آگ لگا دی اور یہ احتجاج دور تک پھیلنے لگا۔

مظاہرین کے اس انتہائی سخت احتجاج کے دوران سرمایہ کاروں کو بھی سخت دھچکا لگا اور انڈونیشیا کی سٹاک مارکیٹ کے علاوہ کرنسی پر بھی برے اثرات آئے۔

انڈونیشیا کے صدر نے ایوان صدر میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فوج اور پولیس حکام کو ہدایت کی ہے کہ سخت ایکشن لیں اور فسادیوں اور لوٹ مار کرنے والوں کی روک تھام کریں۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ احتجاج کے دوران بعض واقعات ایسے سامنے آئے ہیں جو بغاوت اور دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں۔

دوسری جانب صدر نے ارکان پارلیمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مجھے یہ پیغام بھجوایا ہے کہ وہ اپنی مراعات واپس کرنے کو تیار ہیں۔ اسی طرح وہ اپنے بیرون ملک کے دوروں کے اخراجات کو بھی کم کریں گے۔ مجھے امید ہے کہ مراعات کی واپسی کے بعد احتجاج ختم ہوجانا چاہیے ۔

انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ میں نے پولیس اور فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ تخریبی سرگرمیوں، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹیں اور انہیں قانون کے حوالے کریں۔

یاد رہے صدر انڈونیشیا کی حکومت کے سامنے یہ احتجاج ایک بڑے چیلنج کے طور پر آیا ہے۔ پچھلے ایک سال کے دوران حکومت کو اس طرح کی کسی مزاحمت کا سامنا نہیں رہا۔

صدر پرابوبو سبیانتو نے اس شدید احتجاج کے باعث اتوار کے روز شروع ہونے والا اپنا دورہ چین بھی منسوخ کر دیا ہے۔

بعدازاں وہ اہم سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملے، کابینہ کے ارکان سے ملاقاتیں کی اور صورتحال پر تفصیلی غور کیا۔

فوج کو مختلف اہم جگہوں پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ کئی اہم وزیروں اور حکومتی عہدیداروں کے گھروں کے علاوہ حکومتی تنصیبات کی پہلی ہی فوج حفاظت کی ذمہ داری سنبھال چکی ہے۔

تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان فسادات اور لوٹ مار کے پیچھے کون تھا۔ البتہ ابتدائی طور پر یہی کہا جا رہا ہے کہ اس میں طلبہ کی تنظیمیں انوالو تھیں۔

طلبہ کے رہنما مزمل احسان کے علاوہ طلبہ کی ایگزیکٹو باڈی کے عہدیداران بھی اس سرگرمی میں متحرک رہے۔ جنہوں نے 'روئٹرز' سے بات کرتے ہوئے کہا قانون سازوں کی مراعات میں کمی کرنا کافی نہیں ہے۔ اس لیے ابھی احتجاج جاری رہے گا۔

آل انڈونیشین سٹوڈنٹس کی طرف سے یہ دھمکی کافی اہمیت کی حامل ہے۔

مزمل احسان نے کہا حکومت کو چاہیے کہ وہ اس احتجاج کو چند مراعات کی کمی تک نہ دیکھے بلکہ عوامی غصے کے گلی محلوں تک پھیل جانے کی وجوہات کو دور کرے۔

ایک اور طلبہ تنظیم کے سربراہ جو طلبہ کی طرف سے جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں نے بھی پیر کے روز سے احتجاج میں حصہ لیا ہے اور کہا ہے کہ صدر کا یہ اعلان ایسا نہیں ہے کہ اس نے مسائل کو جڑ سے ختم کرنے کی کوشش کی ہو۔

انہوں نے کہا صدر نے جو ہدایات پولیس اور فوج کو دی ہیں وہ ظالمانہ ہیں اور ہمیں دھمکی دینے کے برابر ہیں۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی انڈونیشین شاخ نے کہا ہے صدر کی طرف سے بغاوت اور دہشت گردی کی اصطلاحات استعمال کرنا مناسب نہیں ہے، متجاوز ہے۔

یاد رہے اسی احتجاج کی وجہ سے چین کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹک ٹاک' نے انڈونیشیا میں اپنی لائیو سرگرمیوں کو معطل کرنے کا ایک روز قبل اعلان کیا تھا۔ تاہم یہ معطلی محض چند دنوں کے لیے کی گئی تھی۔

اس احتجاج کے دوران اب تک 5 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جن میں سے 3 کی ہلاکت اس وقت ہوئی جب پارلیمان کی بلڈنگ کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں