ایران نے نطنز کی تنصیب سے کولنگ آلات منتقل کر دیے ... سیٹلائٹ تصاویر میں انکشاف

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل رافائیل گروسی نے تصدیق کی کہ ایران بدستور سینٹری فیوجز تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران نے نطنز کی یورینیم افزودگی کی تنصیب میں ایئر کنڈیشننگ اور وینٹیلیشن کی دو عمارتوں سے زیادہ تر کولنگ آلات گزشتہ ہفتے ہٹا کر منتقل کر دیے ہیں۔ یہ انکشاف حالیہ سیٹلائٹ تصاویر سے ہوا۔

انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی کے سربراہ ڈیوڈ البرا ئٹ نے کہا کہ یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ اگر دوبارہ فضائی حملے ہوں تو ان حساس مشینوں کی تباہی کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔ انھوں نے بتایا کہ فی الحال یہ سسٹم بجلی کی بندش اور سینٹری فیوج پلانٹ کی خرابی کی وجہ سے ویسے بھی غیر فعال ہے، جو اسرائیل اور امریکا کے خلاف ہونے والی "12 روزہ جنگ" کے حملوں کے دوران متاثر ہوا تھا۔

ادھر ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل رافائیل گروسی نے تصدیق کی ہے کہ ایران بدستور سینٹری فیوج مشینیں تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو یورینیم کی افزودگی کے عمل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ گروسی کا کہنا تھا "یہ بات سب مانتے ہیں کہ مزید سینٹری فیوجز بنانے کی ایران میں بڑی حد تک گنجائش موجود ہے۔"

گروسی نے یہ بھی زور دیا کہ ایران میں موجود افزودہ مواد کی تصدیق ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق "میرا خیال ہے کہ عمومی طور پر سب متفق ہیں کہ یہ مواد ایران میں اب بھی موجود ہے، لیکن یقیناً اس کی موجودگی کی جانچ ضروری ہے۔ ممکن ہے اس کا کچھ حصہ ضائع ہو گیا ہو، اس کی نشان دہی کے لیے تکنیکی طریقے موجود ہیں۔ ہم اسی تصدیق کے منتظر ہیں۔"

ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات جون کے وسط میں رک گئے تھے۔ اس کی بڑی وجہ اسرائیل کا ایران پر حملہ تھا، جس میں امریکا نے بھی ایرانی جوہری تنصیبات پر بم باری میں حصہ لیا۔

یاد رہے کہ امریکا نے 2018 میں ایران کے ساتھ طے پانے والا جوہری معاہدہ ختم کر کے دوبارہ پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ یہ فیصلہ اُس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں کیا گیا۔

اس کے بعد سے تہران نے اپنی کچھ ذمہ داریوں خصوصاً یورینیم کی افزودگی سے متعلق امور میں انحراف کیا۔ مغربی ممالک کو شبہ ہے کہ ایران خفیہ طور پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ایران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔ تہران یہ مؤقف اختیار کرتا ہے کہ اُس کا ایٹمی پروگرام صرف پُر امن مقاصد کے لیے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں