جس چیز کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ، وہ غزہ شہر میں پہلے ہی ہو رہی ہے : یونیسف

تنظیم کے مطابق فلسطینیوں کی زندگی کو مسلسل اور یقینی طور پر پارہ پارہ کیا جا رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بچوں کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم "یونیسف" نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں "بچپن زندہ نہیں رہ سکتا" ... یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل غزہ شہر پر مکمل قبضے کے لیے تیاری کر رہا ہے۔

یونیسف کی ترجمان تیس انگرام نے جمعرات کو آگاہی فراہم کرتے ہوئے کہا "دنیا اس بڑے فوجی حملے کے ممکنہ نتائج پر خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے، جو غزہ شہر میں قریب دس لاکھ افراد کے لیے تباہی ثابت ہو سکتا ہے۔"

اسرائیلی فوج فی الحال غزہ شہر پر قبضے کی تیاری کر رہی ہے، جو محصور غزہ کی پٹی کا سب سے بڑا شہر ہے۔ تل ابیب نے منگل کو ہزاروں اضافی فوجیوں کو طلب کر لیا۔

انگرام نے اپنے غزہ کے حالیہ دورے کے حالات بیان کیے جو نو روز پر مشتمل تھا۔ انھوں نے کہا "یہ ناقابلِ تصور حقیقت قریب نہیں بلکہ پہلے ہی موجود ہے۔ صورت حال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا "بچوں کے جسم غذائی قلت اور بھوک سے کمزور ہو رہے ہیں، نقل مکانی نے انھیں پناہ اور دیکھ بھال سے محروم کر دیا ہے، اور بم باری ان کی ہر حرکت کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ یہی وہ شکل ہے جس میں قحط جنگی علاقے میں ظاہر ہوتا ہے، اور میں نے یہ منظر غزہ شہر کے ہر کونے میں دیکھا۔"

یونیسف کی اس خاتون عہدے دار نے کہا کہ غزہ کی صورت حال "اتفاقی نہیں بلکہ براہِ راست ان فیصلوں کا نتیجہ ہے جنھوں نے غزہ شہر بلکہ پورے علاقے کو ایسا مقام بنا دیا ہے جہاں ہر روز لوگوں کی زندگی پر ہر طرف سے حملہ ہو رہا ہے۔"

انگرام کے مطابق فلسطینیوں کی زندگی کو منظم انداز میں تباہ کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ "اپنے جنگ کے قواعد پر نظرثانی کرے تاکہ بچوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے" اور امدادی سامان کے داخلے کی اجازت دے۔ انگرام نے حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام قیدیوں کو رہا کرے۔

اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد سے غزہ کی پٹی کو بڑے پیمانے پر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے۔

یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو اس وقت شروع ہوئی جب حماس اور دیگر مسلح گروہوں نے غزہ سے اسرائیلی بستیوں پر حملہ کیا تھا، جس میں 1200 افراد مارے گئے اور تقریباً 250 افراد کو یرغمال بنایا گیا۔ غزہ میں باقی رہ جانے والے 48 قیدیوں میں سے خیال کیا جاتا ہے کہ تقریباً 20 اب بھی زندہ ہیں۔

حماس کے زیر انتظام مقامی محکمہ صحت کے مطابق اس عرصے میں اسرائیلی حملوں میں 64 ہزار 200 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ ان اعداد و شمار کو قابلِ اعتماد قرار دیتی ہے۔

ادھر غزہ میں انسانی المیے کی سنگین صورت حال اور اسرائیل کی بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں کے باعث تل ابیب کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں