انٹیلی جنس کے شعبے میں باہمی تعاون کے معاہدے میں منسلک ملکوں 'فائیو آئیز' نے فیصلہ کیا ہے کہ پانچوں ملک وزرائے داخلہ کے مشترکہ اجلاس میں اہم فیصلے کریں گے ۔ تاکہ قانونی اور غیر قانونی دونوں طرح کے امیگرنٹس کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مربوط جدوجہد کر سکیں۔
'فائیو آئیز' ممالک میں امریکہ،کینیڈا، برطانیہ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ ان ملکوں نے اس سے قبل دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کے لیے باہم انٹیلی جنس شیئرنگ کرتی رہی ہیں۔
اس متوقع لائحہ عمل کے لیے اجلاس طلب کیے جانے کی اطلاع برطانیہ کی نئی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے کی ہے۔
شبانہ محمود کشمیری نژاد برطانوی شہری ہیں۔ انہوں نے وزارت سنبھالنے کے فوری بعد امیگرنٹس کے معاملے کے بارے میں ہی بتایا ہے کہ 5 آئیز کے رکن ممالک کے وزرائے داخلہ جمع ہو کر صورت حال سے نمٹنے کی تیاری میں ہیں۔
انہوں نے کہا اس متوقع اجلاس میں پانچوں ملک غیر قانونی امیگرنٹس کو روکنے کے لیے اپنی سرحدوں کی نگرانی مضبوط کریں گے۔ تاکہ انسانی سمگلنگ کا سد باب کیا جا سکے۔
بتایا گیا ہے کہ پانچوں ملکوں کے وزرائے داخلہ آج پیر کے روز سے دو دن کے لیے لندن میں جمع ہوں گے۔ ان کا یہ اہم اجلاس منگل کے روز بھی جاری رہے گا۔ تاکہ انسانی سمگلنگ کو کچلا جا سکے۔
برطانوی وزیر داخلہ نے کہا ہم نئے اقدامات پر اتفاق کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ انسانی سمگلنگ سے سختی سے نمٹنا چاہتے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ ان دنوں غیر ملکیوں کی امریکہ آمد روکنے لیے سخت ترین پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔ واشنگٹن میں فوجی اہلکاروں کی تعیناتی بھی کر رکھی ہے۔ غیر ملکیوں کے خلاف امریکہ سمیت دنیا کے کئی ممالک نبرد آزما ہیں۔
برطانیہ میں بھی یہ موضوع ان دنوں بہت اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ برطانیہ کی پچھلی حکومتیں سیاسی پناہ دینے میں کافی کھلی رہی ہیں۔ لیکن اب چھوٹی کشتیوں پر لندن پہنچنے والے غیر ملکی ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔
وزرائے داخلہ کے اجلاس میں امریکی محکمہ خارجہ کی سیکرٹری کرسٹی نوم ، کینیڈین وزیر داخلہ ٹونی برک اور نیوزی لینڈ کی جوڈتھ کولنز بھی شریک ہوں گی۔