صدر ٹرمپ کا رجعت پسند بااثر اتحادی چارلی کرک کون تھا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکہ کی ایک بااثر رجعت پسند شخصیت چارلی کرک کو بدھ کے روز امریکہ میں ہی ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اس پر فائرنگ نامعلوم فرد یا افراد نے کی۔

وہ خود بھی زیادہ عمر کا نہیں تھا اس لیے نوجوانوں میں بہت مقبولیت اور اثرات رکھتا تھا۔

اسے بدھ کے روز اورم میں گولی ماری دی گئی۔ اس کے بارے میں چند اہم حقائق درج ذیل ہیں۔

چارلی کرک ابھی صرف 31 سال کا تھا ۔ شادی شدہ اور دوبچوں کا باپ تھا۔

شروع سے ہی رجعت پسندی کے حق میں متحرک رہا اور صرف اٹھارہ برس کی عمر میں ایک ایسی تنظیم کا شریک بانی بن گیا۔ تاکہ امریکہ کے تعلیمی اداروں میں رجعت پسندی کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے کام کیا جا سکے۔ اس طرح امریکی کالجوں سے ہی دائیں بازو کے کٹر ووٹر تیار ہو کر نکل سکیں۔

اسی سلسلے میں کرک نے مزید پیش رفت کرتے ہوئے 2019 میں ' ٹرننگ پوائنٹ ایکشن ' کے نام سے ایک نیا فورم تشکیل دیا ۔ یہ فورم غیر منافع بخش بنیادوں پر دائیں بازو کے امیدواروں کی مدد کے لیے سرگرم رہا۔

' ٹی پی اے ' نے اپنے قیام کے بعد بڑی بڑی ریلیز کا اہتمام کیا۔ ان سے اہم مقررین بشمول صدر ٹرمپ بہت ساروں نے خطاب کیا۔

کرک کو نوجوانوں میں صدر ٹرمپ کی امریکہ کو دوبارہ سے عظیم بنانے کی تحریک کا اہم چہرہ سمجھا جاتا تھا۔

2020 میں چارلی کرک ٹرمپ کی انتخابی مہم میں پیش پیش رہے مگر ٹرمپ بوجوہ وائٹ ہاؤس نہ پہنچ سکے۔

صدر ٹرمپ اکثر چارلی کرک کو اس بات کا کریڈٹ دیتے کہ ان کی وجہ سے نوجوان ووٹرز بطور خاص ٹرمپ کی طرف آئے۔ 2024 کے صدارتی انتخاب کی مہم میں ٹرمپ کی جیت کے لیے کرک نے نوجوانوں میں خوب کام کیا۔

چارلی لکھاری بھی تھے اور ابلاغی شعبے میں بھی خوب متحرک رہے۔ ان کے پوڈ کاسٹ کو ہر ماہ تقریبا پانچ لاکھ سے زائد لوگ دیکھتے تھے جبکہ ' ایکس ' پر ان کے فالورز کی تعداد 53 لاکھ رہی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں