قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے دوحہ میں امریکی سینٹکام کے کمانڈر جنرل چارلس بریڈفورڈ کوپر سے ملاقات کی۔
اس موقع پر قطر اور امریکہ کے درمیان قریبی اسٹریٹجک تعلقات کا جائزہ لیا گیا اور انہیں مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال ہوا۔ گفت و شنید میں فوجی اور دفاعی تعاون کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ باہمی دلچسپی کے دیگر امور بھی زیر بحث آئے۔
قطری قیادت کی امریکی حکام سے ملاقاتیں
یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب اس سے قبل نیویارک میں قطری وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کو ’’شاندار‘‘ قرار دیا تھا۔ قطر کے نائب سفیر حمد المفتاح نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’’صدر کے ساتھ بہترین ڈنر ابھی ختم ہوا‘‘۔ ذرائع کے مطابق یہ ملاقات دو گھنٹے جاری رہی اور کئی اہم امور پر بات ہوئی۔
قطری وزیراعظم نے اس دوران امریکی نائب صدر جی ڈی فانس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی ملاقات کی، جنہیں مثبت قرار دیا گیا۔
اسرائیلی حملے پر غم و غصہ
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے چند روز قبل دوحہ میں ایک کمپاؤنڈ پر حملہ کیا تھا، جہاں حماس رہنما امریکی تجویز کردہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت کر رہے تھے۔ اس حملے نے عرب اور عالمی سطح پر شدید غصے کو جنم دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس پر ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو پر غیر معمولی تنقید کی اور کہا کہ وہ ’’خوش نہیں ہیں‘‘۔
قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاھو کو ’’انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے‘‘۔ ان کے بقول یہ حملہ غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کی تمام امیدوں کو ختم کر چکا ہے۔
قطر کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی کارروائی کو ’’بزدلانہ‘‘ اور ’’ریاستی دہشت گردی کے مترادف‘‘ قرار دیا۔