فرانس کی نیشنل فلم کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی ہدایتکار جعفر بناہی کی کان فلمی میلے میں گولڈن پام جیتنے والی فلم "صرف ایک حادثہ" کو آسکر ایوارڈز میں فرانس کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ فلم کی تیاری فرانس میں کی گئی تھی۔
فرانس کی نیشنل فلم کمیٹی کے سربراہ گیٹان برویل (Gaëtan Rouillé) کے مطابق، اس انتخاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرانس "بین الاقوامی مشترکہ پروڈکشنز کا دل ہے اور تمام دنیا کے تخلیق کاروں کو خوش آمدید کہنے والا ملک ہے، خاص طور پر وہ فنکار جو اپنے وطن میں کام کرنے سے محروم ہیں۔
ایرانی ہدایتکار جعفر بناہی نے خفیہ طور پر بنائی گئی اپنی فلم کے لیے گذشتہ ماہ مئی میں کان فلم فیسٹیول میں گولڈن پام جیتا، دو بار قید کی صعوبتیں جھیلنے کے بعد انعام وصول کرنے کے لیے باہر گئے اور کامیابی کے بعد وطن واپس لوٹ آئے تھے۔
آسکر مقابلے میں پہلی نامزدگی
جعفر بناہی ایرانی سینما کی ایک نمایاں شخصیت ہیں، انہوں نے برلن اور وینس کے فلمی میلوں میں کئی ایوارڈز جیتے، تاہم آسکر میں کبھی مقابلہ نہیں کیا۔
فلم "دو بیلیاس" (Film du Bélier)کے بانی فلپ مارٹن نے واضح کیا کہ "آسکر ایوارڈز میں مقابلہ کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ کسی ملک کی طرف سے نامزدگی ہو، اور ایران کبھی نہیں چاہتا کہ جعفر بناہی اس کی نمائندگی کرے۔
انہوں نے مزید کہا، "میں بہت خوش ہوں کیونکہ اس فلم میں ایک مضبوط سیاسی پیغام موجود ہے۔ جتنا زیادہ لوگ اس کا تذکرہ کریں اور اسے دیکھیں گے، یہ اتنا ہی بہتر ہوگا۔"
فرانسیسی پروڈکشن کمپنی نے ہدایتکارہ جسٹن ترئی کی فلم "Anatomie d’un shoot کی تیاری میں بھی حصہ لیا، جو 2024 کے آسکر ایوارڈز میں بہترین اسکرپٹ کا ایوارڈ جیت چکی ہے اور پچھلے سال کین فلم فیسٹیول میں گولڈن پام حاصل کر چکی ہے۔
2015 میں، فرانس کی نیشنل فلم کمیٹی نے ایک بدیسی زبان میں فلم کو امریکہ میں مقابلے کے لیے فرانس کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا، اور یہ فرانسیسی-ترک، ہدایتکارہ دنیز غامزی ارغوفن کی "موستانگ" فلم تھی۔