ماکروں اور ان کی اہلیہ ثبوت پیش کریں گے کہ 'برجیٹ' کی پیدائش عورت کے طور پر ہوئی تھی

امریکہ میں دائر مقدمے میں ہتکِ عزت کے 22 نکات شامل ہیں اور مالی معاوضے کا مطالبہ کیا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں اور ان کی اہلیہ برجیٹ ماکروں نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی ریاست ڈیلاؤیر کی ایک عدالت میں ثبوت اور ذاتی تصاویر پیش کریں گے جن سے یہ ثابت ہو کہ برجیٹ پیدائشی طور پر خاتون ہیں۔ یہ کارروائی امریکی دائیں بازو کی کارکن اور مؤثر شخصیت کینڈیس اووینز کے خلاف دائر ہتکِ عزت کے مقدمے کا حصہ ہے۔ اووینز پر الزام ہے کہ اس نے برجیٹ کی شناخت کے بارے میں جھوٹے دعوے پھیلائے۔ یہ بات برطانوی اخبار "گارڈین" کی رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔

اووینز نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کے ذریعے ایک سازشی نظریہ پھیلایا تھا کہ برجیٹ ماکروں کی پیدائش بطور مرد ہوئی تھی اور ان کا اصل نام "ژاں-میشیل ٹروجنیو" ہے، جو ان کے بڑے بھائی کا نام ہے۔ یہ دعویٰ سب سے پہلے 2021 میں فرانس میں سامنے آیا تھا اور پھر انٹرنیٹ اور کچھ دائیں بازو کے میڈیا کے ذریعے تیزی سے پھیل گیا۔ اس کے نتیجے میں فرانس میں بھی کئی ہتکِ عزت کے مقدمات قائم ہوئے۔

امریکہ میں جولائی میں دائر ہونے والے اس مقدمے میں 22 شقوں پر مشتمل ہتکِ عزت کے الزامات شامل ہیں اور اس میں مالی معاوضے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے، اگرچہ اس کی رقم ظاہر نہیں کی گئی۔ جوڑے کے وکیل ٹام کلیر کے مطابق برجیٹ ماکروں "فیصلہ کن سائنسی ثبوت" پیش کرنے کے لیے تیار ہیں، جن میں ان کی حمل کے دوران کی تصاویر، بچوں کی پرورش کے شواہد اور ماہرین کی گواہیاں شامل ہوں گی، جو اووینز کے دعوؤں کو جھوٹا ثابت کرتی ہیں۔

یہ معاملہ محض ذاتی نوعیت کا نہیں بلکہ قانونی اور سیاسی پہلو بھی رکھتا ہے۔ اس لیے کہ یہ آزادی اظہار اور امریکہ کے ہتکِ عزت کے قوانین کے لیے ایک اہم امتحان ہے، خاص طور پر جب بات عوامی شخصیات کی ہو۔ ماہرین کے مطابق اس مقدمے کا فیصلہ مستقبل میں ان میڈیا مہموں کے حوالے سے ایک اہم نظیر قائم کرسکتا ہے جو غیر ثابت شدہ سازشی نظریات کے ذریعے شہرت حاصل کرتی ہیں۔

دوسری جانب اووینز نے اب تک اپنے الزامات واپس نہیں لیے اور کہا ہے کہ وہ قانونی اور مالی نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے برعکس ماکروں اور ان کی اہلیہ کا موقف ہے کہ ان الزامات کو علانیہ طور پر رد کیا جانا چاہیے اور ان کا وقار بحال ہونا چاہیے، کیونکہ یہ بیانات ان کی نظر میں گمراہ کن اور توہین آمیز ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں