ٹرمپ نے ٹی وی چینلز کو لائسنس واپس لینے کی دھمکی دیدی، یہ خطرناک ہے: اوباما
امریکی صدر نے ٹی وی چینلز پر ان کے خلاف منفی خبریں نشر کرنے کا الزام لگایا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ملک کے ٹی وی میڈیا پر الزام لگایا ہے کہ وہ ان کے خلاف 97 فیصد منفی کوریج کرتے ہیں۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ حکومت ان چینلز کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے جو انہیں منصفانہ کوریج نہیں دیتے۔ یہ بات انہوں نے برطانیہ کے سرکاری دورے سے واپسی پر صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کی۔
برطانوی اخبار "گارجین" کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ 97 فیصد کوریج منفی تھی۔ اس کے باوجود میں نے تمام سات متنازع ریاستوں میں آسانی سے کامیابی حاصل کی۔ وہ (ٹی وی چینلز) میرے بارے میں صرف بری خبریں نشر کرتے ہیں اور لائسنس حاصل کرتے ہیں۔ شاید ان لائسنسوں کو واپس لینے پر غور ہونا چاہیے۔
یہ بیان ٹرمپ نے اس وقت دیا جب وہ امریکی چینل ’’ اے بی سی ‘‘ کے فیصلے کا دفاع کر رہے تھے جس نے مزاحیہ اینکر جمی کِمِل کا پروگرام معطل کر دیا تھا۔ ٹرمپ نے جمی کِمِل کو "بے ہنر" قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے کم ناظرین کی وجہ سے اپنی مقبولیت کھو دی ہے۔ جمی کِمِل نے حال ہی میں قدامت پسند کارکن چارلی کرک کے قتل سے متعلق متنازع تبصرے کیے تھے۔
ویب سائٹ "لیٹ نائٹر" اور نیلسن کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ناظرین کے اعدادوشمار کے مطابق سٹیفن کولبیر کا شو ’’ لیٹ شو‘‘ اوسطاً 2.42 ملین ناظرین کے ساتھ سب سے آگے ہے۔ جبکہ جمی کِمِل کے شو کے اوسط ناظرین کی تعداد دوسری سہ ماہی 2025 میں 1.77 ملین رہی ہے لیکن 18 سے 49 سال کے ناظرین کے درمیان وہ کولبیر سے آگے نکل گیا ہے۔
پروگرام کی معطلی پر لاس اینجلس میں احتجاج کیا گیا۔ سینکڑوں مظاہرین اے بی سی کی مالک کمپنی ڈزنی سٹوڈیوز کے باہر جمع ہوئے اور جمی کِمِل کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر سابق صدر باراک اوباما نے کہا کہ میڈیا کو دھمکانا انتہائی خطرناک اضافہ ہے اور یہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے آزادی صحافت پر حملہ ہے۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ٹرمپ آئندہ وسط مدتی انتخابات سے پہلے میڈیا کو اپنی سیاسی مقبولیت بڑھانے کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔