’میں اپنے ملک کو نہیں پہچانتی': ہالی ووڈ اداکارہ انجلینا جولی

آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ کو آزادئ اظہار پر پابندی پر تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی اداکارہ انجلینا جولی نے اتوار کے روز سپین کے سان سباسٹین فلم فیسٹیول میں اپنی تازہ ترین فلم کی نمائش کے دوران کہا کہ وہ اب اپنے ملک کو نہیں پہچانتیں۔ انہوں نے اس دوران اظہار رائے کی آزادی کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنقیدی میڈیا پر کریک ڈاؤن کیا ہے اور حالیہ دنوں میں قدامت پسند چارلی کرک کے قتل پر تبصرے کرنے پر میزبان جمی کیمل کا شو معطل کر دیا ہے جس کے بعد امریکہ میں آزادانہ تقریر پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ جولی کے تبصرے اسی دوران سامنے آئے ہیں۔

کیا وہ امریکہ میں اظہار رائے کی آزادی سے خوفزدہ ہیں، اس سوال کے جواب میں جولی نے کہا، "میں اپنے ملک سے محبت کرتی ہوں لیکن میں اس وقت اپنے ملک کو نہیں پہچانتی۔"

انہوں نے مزید کہا، "کہیں بھی کوئی بھی اور کسی کی طرف سے بھی ایسی چیز جو تقسیم یا یقیناً ذاتی اظہار اور آزادی کو محدود کرتی ہو تو میرے خیال میں وہ بہت خطرناک ہے۔ یہ بہت زیادہ بوجھل وقت ہے جس سے ہم سب ایک ساتھ گذر رہے ہیں۔"

پچاس سالہ جولی فرانسیسی فلمساز ایلس ونوکور کی ہدایت کاری میں "کوچر" کی تشہیر کے لیے سان سباستین میں تھیں جو میلے کے سب سے بڑے انعام گولڈن شیل کے لیے مقابلہ کر رہی ہے۔

وہ ایک امریکی فلم ڈائریکٹر میکسین واکر کا کردار ادا کر رہی ہیں جسے طلاق اور ایک سنگین بیماری کا سامنا ہے جبکہ اس دوران وہ پیرس فیشن ویک میں شرکت اور ایک دفتری ساتھی سے رومانی تعلق کا سفر شروع کرتی ہے۔ ساتھی کا کردار فرانسیسی اداکار لوئس گیرل نے ادا کیا ہے۔

فلم "گرل، انٹرپٹڈ" میں 1999 میں اپنے کردار کے لئے آسکر ایوارڈ حاصل کرنے والی اداکارہ جولی نے کہا ہے کہ ذاتی طور پر اپنے تازہ ترین کردار کی جدوجہد سے اپنائیت اور تعلق محسوس کرتی ہیں۔

جولی نے 2013 میں دوہری ماسٹیکٹومی سرجری کروائی اور بعد میں انہوں نے اپنی بیضہ دانی اور فیلوپین ٹیوبیں نکلوا دیں تاکہ ان میں کینسر کے شدید جینیاتی خطرہ کم کیا جا سکے جس نے ان کی والدہ اور نانی کی جان لے لی تھی۔

اس موقع پر جذباتی نظر آنے والی جولی نے کہا کہ فلم بناتے وقت وہ اکثر اپنی ماں کے بارے میں سوچتی تھیں۔

انہوں نے کہا، "میری خواہش ہے کہ وہ بھی اتنا ہی کھل کر بات کر پاتیں جیسے میں کر رہی ہوں اور انہیں بھی لوگ اتنی ہی خوش اخلاقی سے جواب دیتے جیسا کہ آپ نے دیا ہے اور وہ خود کو اتنا تنہا محسوس نہ کرتیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "خواتین کا کینسر ایک خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ظاہر ہے یہ ہم پر اثر انداز ہوتا ہے، آپ جانتے ہیں کہ ہم بطور خواتین کیسا محسوس کرتی ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں