فرانس اور 15 دیگر ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی تیاری میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فرانس اور 15 دیگر ممالک آج اقوامِ متحدہ میں با ضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، یہ اقدام اسرائیل پر مزید دباؤ بڑھا دے گا۔ یہ اعلان "دو ریاستی حل" کے اجلاس کے دوران سامنے آئیں گے جو سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ صدارت میں منعقد ہو رہا ہے۔

العربیہ کے نمائندے کے مطابق اجلاس کے اختتام تک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد بڑھ کر 16 ہو جائے گی۔

یہ متوقع اعتراف دراصل اس عمل کی تکمیل ہے جس کے لیے پیرس اور ریاض کئی ماہ سے سرگرم تھے۔ اسی عمل کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے رکن ممالک کی بھاری اکثریت نے ایک مسودے کی منظوری دی جو فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے۔

گزشتہ روز فرانسیسی صدر نے امریکی چینل "سی بی ایس" کے پروگرام "فیس دی نیشن" میں کہا کہ فلسطینی "ایک وطن اور ایک ریاست چاہتے ہیں، اور ہمیں انھیں حماس کی طرف دھکیلنا نہیں چاہیے۔ اگر ہم انھیں سیاسی افق فراہم نہیں کریں گے تو وہ حماس کو ہی واحد حل سمجھیں گے۔"

یاد رہے کہ اس اجلاس سے پہلے برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال پہلے ہی فلسطینی ریاست کو با ضابطہ طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔ اس طرح اب اقوامِ متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے تقریباً 150 ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود فلسطین کا اقوامِ متحدہ میں تا حال صرف مبصر کا درجہ ہے کیونکہ امریکا نے اس کی مکمل رکنیت کی راہ روکی ہوئی ہے۔

مغربی کنارے میں ایک لڑکی فلسطینی پرچم تھامے ہوئے (فائل فوٹو - روئٹرز)
مغربی کنارے میں ایک لڑکی فلسطینی پرچم تھامے ہوئے (فائل فوٹو - روئٹرز)

فرانسیسی صدارت کے مطابق آج شام فرانس کے ساتھ اینڈورا، بیلجیم، لکسمبرگ، مالٹا اور سان مارینو بھی اس صف میں شامل ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب جرمنی نے واضح کیا ہے کہ وہ قریب مدت میں فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرے گا۔ جرمن وزیر خارجہ یوہان فادے فیہول نے نیویارک روانگی سے قبل کہا "فلسطینی ریاست کا اعتراف شاید اس عمل کے اختتام پر ہو، لیکن اس عمل کا آغاز ابھی ہونا چاہیے۔"

یہ اعلانات ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب اسرائیلی فوج نے غزہ شہر پر بم باری تیز کر دی ہے اور غزہ کی پٹی میں تباہ کن اور محصور فلسطینی عوام کے بگڑتے ہوئے انسانی حالات کے باعث اسرائیل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں