پوپ لیو نے غزہ سے فلسطینی شہریوں کی جبری نقل مکانی کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس امر کا اظہار اتوار کے روز ویٹی کن سٹی میں ہفتہ وار عبادات کے دوران کیا ہے۔
غزہ میں اسرائیلی ریاست کی خوفناک جنگ دو سال مکمل کرنے والی ہے اور اس مرحلے پر اسرائیل کی فوج مقامی شہریوں کو غزہ سے جبری طور پر بے دخل کر کے غزہ میں مصنوعی آباد کاری کی نیت سے بد ترین بمباری کر رہی ہے۔
اس سلسلے میں اسرائیلی فوج غزہ شہر کی تقریبا دس لاکھ کی فلسطینی آبادی کو جبری نقل مکانی پر مجبور کرنے لیے بدترین بمباری کر رہی ہے۔ اس بمباری کا اسرائیلی مقصد غزہ کو اگلے کئی برسوں کے لیے بھی ناقابل رہائش بنانا ہے تاکہ فلسطینیوں کو غزہ میں رہنے کی کوئی امید باقی نہ رہے۔
پوپ لیو نے ہفتہ وار اینجلز کی دعا کے دوران پادریوں کے ساتھ کہا میں مقدس سرزمین میں یہ بات دہراتے ہوئے کہتا ہوں 'تشدد اور انتقام پر مبنی جبری انخلا کا کبھی مستقبل نہیں ہو سکتا ہے۔ '
یاد رہے آج کی اسرائیلی ریاست کو اسی مقدس سرزمین مغربی کنارے ، اردن اور مصر کی سرزمین پر بنایا گیا ہے۔
ماہ جولائی میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں واحد کیتھولک گرجے پر حملے کے بعد سے غزہ میں امن کی حمایت کرنے میں پوپ لیو کا کردار نمایاں توقعات کا حامل ہو چکا ہے۔
اس لیے انہوں نے کہا ہے عوام کو امن کی ضرورت ہے۔ جو لوگ امن سے حقیقی محبت کرتے ہیں وہ امن کے لیے کام کرتے ہیں۔