ایران : برطانوی میاں بیوی کی گرفتاری پر اہلخانہ مین تشویش، حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران میں برطانوی جوڑے کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ ہفتہ کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ خاندان کی طرف سے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت رہائی کے لیے اقدامات کرے۔

لنڈسے اور کریگ فورمین دونوں کی عمر 52 سال ہے جنہیں ایران میں ماہ جنوری کے دوران حکام نے روک لیا تھا۔ یہ دونوں کیرمان سے گزر رہے تھے جو وسطی ایران کا علاقہ ہے۔ دونوں بائیک سوار ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ وہ بائیک پر سوار ہو کر دنیا کا چکر لگا رہے ہیں۔

تہران نے ان دونوں گرفتار کیے گئے برطانوی شہریوں کو تہران شہر کے نزدیک الگ الگ جیلوں میں رکھا ہے۔

ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ دونوں جاسوسی کے لیے ایران آئے تھے۔

گرفتار کیے گئے ان شہریوں کے اہلخانہ نے برطانوی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ان کی رہائی کے لیے فوری اقدامات کرے۔ نیز خاندان نے اس امر کا بھی انکار کیا ہے کہ انہوں نے ان کی گرفتاری کے معاملے کو چھپائے رکھا۔

اس برطانوی جوڑے کے اہلخانہ نے پہلی مرتبہ ماہ اگست میں بات کی۔ جب وہ ان کے کیس کی وجہ سے بہت زیادہ مایوس ہو گئے تھے۔

ان کے بیٹے نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہمارے معاملے کو حکومت سنجیدگی سے دیکھے۔ ہمارے والدین بے گناہ ہیں اور انہیں بڑے خوفناک ماحول میں رکھا گیا ہے۔ ایرانی حکام ان کے ساتھ انسانی حقوق کے منافی سلوک کر رہے ہیں۔

جوئین بینٹ کا یہ بیان 'اے ایف پی' نے رپورٹ کیا ہے۔

اس نے کہا کہ ہم حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اقدامات کرے اور اس سے مدد چاہ رہے ہیں کہ دونوں میاں بیوی کو ایک ہی جیل میں رکھا جائے تاکہ وہ ایک دوسرے سے مل سکیں۔

انہوں نے برطانوی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ دونوں برطانوی شہریوں کی صحت اور علاج معالجے کی سہولت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

رشتہ داروں کے مطابق جیل میں نظر آنے والی مدد کی ضرورت ہے نہ کہ صرف زبانی بیانات ان کے حق میں دیے جائیں۔

انہوں نے وزیر خارجہ سے بھی فوری ملاقات کی درخواست کی ہے تاکہ وہ اپنے مطالبات ان کے سامنے اچھی طرح رکھ سکیں۔

پچھلے ہفتے قیدیوں اور یرغمالیوں سے متعلق امور کے لیے بنائے گئے گروپ نے بھی ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ جبکہ ایران میں زیر حراست ان دونوں افراد کے رشتہ داروں نے ایران کے لیے برطانوی سفیر سے بھی ملاقات کی ہے اور اپنے احساسات سے انہیں آگاہ کیا۔

بتایا گیا ہے کہ جہاں لنڈسے کو رکھا گیا ہے وہاں مزید 70 لوگ موجود ہیں جبکہ ان کی اہلیہ کو خواتین کے شعبے میں رکھا گیا ہے۔ جہاں خواتین کا بڑا ہجوم موجود ہے۔ جیل میں دونوں کے پاس بنیادی سہولتوں کا بھی فقدان ہے اور ان کو ایک جھوٹے الزام کے تحت بند کیا گیا ہے۔

تاہم برطانوی وزارت خارجہ نے بھی اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں