امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ "ہم غزہ کے حوالے سے معاہدے کے نہایت قریب ہیں۔"
انہوں نے بتایا کہ وہ خود ایک نئی بین الاقوامی اتھارٹی کے سربراہ ہوں گے جو غزہ کے انتظامی معاملات پر نظر رکھے گی۔ ٹرمپ کے مطابق، واشنگٹن کا امن منصوبہ غزہ سے اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا پر مشتمل ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ "غزہ کی نئی عبوری اتھارٹی کے ساتھ مل کر تمام فریقین اسرائیلی فوج کے انخلا کا ٹائم فریم طے کریں گے"۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بنجمن نیتن یاھو اس منصوبے سے متفق ہیں جبکہ امید ہے کہ حماس بھی اس پر راضی ہو گی۔
ترمب: لا مكان لحماس في لجنة إدارة #غزة#قناة_العربية pic.twitter.com/EdbwBUg9V3
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) September 29, 2025
صدر ٹرمپ نے کہا کہ "میں چاہتا ہوں ہم امن معاہدہ مکمل کریں۔ اگر حماس نے انکار کیا، تو وہ تنہا رہ جائے گی، باقی سب فریق متفق ہو چکے ہیں۔ میرا اندازہ ہے کہ ہمیں مثبت جواب ملے گا"۔
ٹرمپ نے کہا کہ بیشتر فلسطینی امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور اس موقع پر انہوں نے عرب اور اسلامی ممالک کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے اس منصوبے کی تیاری میں تعاون کیا۔
اس سے قبل نیتن یاھو سے ملاقات کے موقع پر ٹرمپ نے کہا تھا کہ "میں بہت پُراعتماد ہوں کہ غزہ کے معاملے پر سمجھوتا ہو جائے گا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی 21 نکاتی امن تجویز پر زیادہ تر فریقین متفق ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کارولین لیفٹ نے بھی کہا کہ اسرائیل اور حماس ایک فریم ورک معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ آج ہی قطر کی قیادت سے بھی بات کریں گے جو حماس کے ساتھ مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ترمب: لا مكان لحماس في لجنة إدارة #غزة#قناة_العربية pic.twitter.com/EdbwBUg9V3
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) September 29, 2025
انہوں نے مزید کہا کہ "ایک معقول معاہدے کے لیے دونوں طرف سے کچھ رعایت دینا ہوگی، یہی اس تنازع کو ختم کرنے کا واحد راستہ ہے"۔
ٹرمپ نے نیتن یاھو کے ساتھ ملاقات سے قبل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشیل پر لکھا کہ "ہمارے پاس مشرق وسطیٰ میں ایک شاندار موقع ہے، سب کچھ بدلنے کو تیار ہے۔ یہ ایک انوکھا موقع ہے اور ہم اسے کامیاب بنائیں گے"۔
یہ نیتن یاھو کی جنوری میں ٹرمپ کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد وائٹ ہاؤس کی چوتھی ملاقات ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس موقع پر ایک اور مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی۔
ادھر امریکی ویب سائٹ "ایکسیوس" کے مطابق واشنگٹن اور تل ابیب ٹرمپ کے امن منصوبے پر سمجھوتے کے قریب ہیں۔ ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ٹرمپ کے مشیر جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو ویٹکوف نے اس معاملے پر نیتن یاھو سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔
تاہم معاہدے کے حتمی اعلان کے لیے حماس کی رضامندی ضروری قرار دی گئی ہے۔ ٹرمپ نے بھی کہا کہ اس سلسلے میں مثبت ردعمل کی توقع ہے۔
امریکی صدر کے بقول یہ معاہدہ صرف غزہ کی جنگ کے خاتمے تک محدود نہیں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں امن کا راستہ کھول سکتا ہے۔
ایک انٹرویو میں نیتن یاھو نے کہا کہ وہ ٹرمپ کی ٹیم کے ساتھ مل کر 21 نکاتی منصوبے کو حتمی شکل دے رہے ہیں، تاہم کچھ تفصیلات ابھی طے نہیں ہو سکیں۔
انہوں نے اس امکان کا بھی ذکر کیا کہ اگر حماس کے رہنما ہتھیار ڈال دیں اور قیدی رہا کر دیں تو انہیں غزہ چھوڑنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ یہ تجویز بھی موجودہ مذاکرات کا حصہ ہے۔
یاد رہے کہ حماس کے سات اکتوبر 2023 کے حملے میں اسرائیلی اعداد وشمار کے مطابق 1219 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنایا گیا تھا، جن میں سے 47 اب بھی غزہ میں موجود ہیں جبکہ 25 کے بارے میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ جاں بحق ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اب تک 66 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔