ریاض آرٹس یونیورسٹی: ثقافتی شعبے میں مہارت کے فرق کو 15 فیصد تک کم کردیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سعودی وزارت ثقافت نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ کو ریاض یونیورسٹی آف آرٹس کے مستقبل کے منصوبے کا خاکہ ظاہر کیا جس کا اعلان دارالحکومت ریاض میں ثقافتی سرمایہ کاری کانفرنس کے دوران کیا گیا۔ یہ ثقافتی شعبے کے کردار اور اثرات کو بڑھانے اور علم پر مبنی معیشتوں کے اندر اس کی موجودگی کو مضبوط بنانے کے حصے کے طور پر ظاہر کیا گیا۔ ملک کے ویژن 2030 کا مرکز ہیں۔

وزارت ثقافت کے ترجمان عبدالرحمن المطوع نے ایک خصوصی انٹرویو میں تصدیق کی کہ یونیورسٹی تقریباً 13 ثقافتی کالج قائم کرے گی، اس طرح ثقافتی شعبے میں مہارت کے فرق کو 15 فیصد تک کم کیا جائے گا۔ یونیورسٹی اختراعات کو فروغ دینے اور ماہرین تعلیم اور انتظامی عملے کے لیے ملازمتیں فراہم کرنے کی بھی خواہاں ہے۔ اس طرح یونیورسٹی ثقافت اور فنون میں مہارت رکھنے والے سب سے نمایاں تعلیمی اداروں میں سے ایک بن جاتی ہے۔

عبد الرحمن المطوع نے پیش گوئی کی ہے کہ ریاض یونیورسٹی آف آرٹس سعودی عرب کی عالمی ثقافتی موجودگی کو مستحکم کرنے کے لیے سعودی ویژن 2030 کی امنگوں کے مطابق تقریباً 30,000 طلبہ کو گریجویٹ کرے گی۔ یونیورسٹی کا مقصد 2040 تک ثقافتی شعبے میں تقریباً ایک ہزار سے پندرہ سو اساتذہ کو تربیت دینا ہے۔

سعودی وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن فرحان نے ثقافتی سرمایہ کاری کانفرنس کے پہلے سیشن کے افتتاحی موقع پر اپنی تقریر میں ریاض یونیورسٹی آف آرٹس کے قیام کا اعلان کیا تھا ۔ کانفرنس میں ریاض میں تخلیقی معیشت کے رہنماؤں کا ایک گروپ شریک تھا۔ سعودی وزیر نے ثقافت کی اہمیت پر معیار زندگی کا سنگ بنیاد اور ملک کی ثقافتی سرگرمیوں کو بڑھانے میں اس کے کردار پر زور دیا۔

ریاض یونیورسٹی آف آرٹس، جو سعودی دارالحکومت کے عرقہ محلے میں واقع ہوگی، ثقافتی شعبوں میں سرکردہ بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے تخلیقی تعلیم میں قیادت حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس کے تعلیمی پروگرام ایک ایسے نقطہ نظر کے ذریعے فراہم کیے جاتے ہیں جو نظریاتی اور قابل اطلاق سیکھنے کو مربوط کرتا ہے۔ اس میں 13 کالجز شامل ہیں جو ثقافتی تعلیم کے شعبے میں معروف بین الاقوامی اداروں کے ساتھ شراکت میں، فلم، موسیقی، ثقافتی نظم و نسق، بصری فنون اور فوٹو گرافی، پکوان کے فنون، ورثے کے مطالعے اور دیگر مضامین کی ایک وسیع رینج کا احاطہ کرتے ہیں۔

یونیورسٹی کے پروگراموں کا پہلا بیچ تین کالجوں کے تحت شروع کیا جائے گا۔ کالج آف تھیٹر اینڈ پرفارمنگ آرٹس، کالج آف میوزک اور کالج آف فلم ہیں۔ یونیورسٹی بیچلر ڈگری ایڈوانسڈ ڈپلوما، ماسٹر ڈگری اور ڈاکٹریٹ کے پروگرام بھی پیش کرتی ہے۔ اسی تناظر میں وزارت ثقافت نے تصدیق کی ہے کہ ریاض یونیورسٹی کے پروگرام تخلیقی ثقافتی صلاحیتوں اور صلاحیتوں کو جگہ دیں گے۔ ہر پروگرام میں اس کی قسم اور فیلڈ کے مطابق طلبہ کی ایک ہدف تعداد ہوگی۔ ہر مرحلے پر شروع کیے جانے والے کالجوں کے مطابق داخلہ کی گنجائش مختلف ہوگی۔

یونیورسٹی سالانہ کتنے سکالر شپس پیش کرے گی ؟ وزارت ثقافت کے ترجمان عبدالرحمن المطوع نے وضاحت کی کہ یونیورسٹی ہنرمندوں کو سکالرشپ دے کر سپورٹ کرے گی ۔ انہیں تخلیقی تعلیم فراہم کرے گی اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ثقافتی خصوصیات میں سرکردہ اداروں کے ساتھ بین الاقوامی شراکت داریاں قائم کی گئی ہیں اور ان کی تعداد کا اعلان 2026 کی پہلی سہ ماہی میں کردیا جائے گا۔

ریاض یونیورسٹی آف آرٹس کے قیام سے سعودی عرب کا مقصد ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جو تخلیقی صلاحیتوں کو سپورٹ کرے اور سعودیوں کی تخلیقی توانائی کے لیے نئی کھڑکیاں کھولے۔ ویژن 2030 کے آغاز کے بعد سے سعودی ثقافتی شعبے نے ایک تاریخی تبدیلی دیکھی ہے ۔ اس تبدیلی نے ثقافتی شعبے کو ایک اہم معاشی لیور میں تبدیل کردیا ہے۔ جی ڈی پی میں اس کا حصہ بڑھ کر 1.6 فیصد ہو گیا ہے۔ ملازمین کی تعداد 235,000 تک پہنچ گئی ہے اور 2024 میں اس کی مالی امداد کی مالیت تقریباً دو بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ اس کی بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری تاریخی سطح پر پہنچ گئی ہے جو 81 بلین ریال سے تجاوز کر چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں