افغان کرکٹرز کی مبینہ ہلاکت، آئی سی سی کے الزامات پاکستان نے مسترد کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان نے اتوار کو افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں ’تین کرکٹرز کی اموات‘ سے متعلق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے بیان کو ’جانبدارانہ‘ اور ’قبل از وقت‘ قرار دے کر ’فوری تصحیح‘ کا مطالبہ کیا ہے۔

افغانستان کرکٹ بورڈ (اے سی بی) نے جمعے (17 اکتوبر کو) ایک حملے میں ’تین مقامی افغان کرکٹر کی موت‘ کا اعلان کرتے ہوئے اسے ’پاکستانی انتظامیہ کی جانب سے کیا گیا بزدلانہ حملہ‘ قرار دیا تھا۔

افغان کرکٹ بورڈ نے جان سے جانے والے تین کھلاڑیوں کے نام ’کبیر، سبغت اللہ اور ہارون‘ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ حملے میں مزید پانچ افراد بھی مارے گئے۔

اس کے ساتھ ہی اس نے ’متاثرین کے احترام میں‘ آئندہ ماہ پاکستان میں ہونے والی سہ فریقی سیریز سے بھی دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا۔

افغان کرکٹ بورڈ کے اعلان کے فوراً بعد آئی سی سی کے سربراہ جے شاہ نے ہفتے کی شام ایکس پر ایک پوسٹ میں واقعے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اے سی بی سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

جس کے بعد پاکستان نے اپنے ردعمل میں آئی سی سی کے بیان کو ’جانبدارانہ‘ قرار دیا۔

وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے متعصبانہ اور قبل از وقت بیان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

وزیر اطلاعات نے ایکس پر جاری ایک پیغام میں واضح کیا کہ آئی سی سی نے افغان کھلاڑیوں کی ہلاکت سے متعلق دعوے کی کوئی آزادانہ تصدیق نہیں کی اور بغیر شواہد کے الزامات کو ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش کیا۔

پاکستان نے آئی سی سی سے فوری طور پر اپنے بیان کی درستی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین جے شاہ کے مؤقف کے اعادے پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

وزیر اطلاعات کے مطابق آئی سی سی، جے شاہ اور افغان کرکٹ بورڈ کے بیانات ایک منظم مہم کا حصہ دکھائی دیتے ہیں، جس سے عالمی ادارے کی غیر جانبداری پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ کھیل کو سیاست سے آلودہ نہیں کیا جانا چاہیے اور آئی سی سی کو اپنی شفافیت اور غیر جانبداری فوری طور پر بحال کرنی چاہیے۔

مزید کہا گیا کہ آئی سی سی کو کسی ملک کے دباؤ میں نہیں آنا چاہیے اور غیر مصدقہ، یکطرفہ دعوؤں سے گریز کرنا چاہیے تاکہ عالمی سطح پر کھیل کے وقار کو نقصان نہ پہنچے۔

ادھر پاکستان کے عسکری ذرائع نے جمعے کو بتایا تھا کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے اندر متعدد حملوں کے بعد پاکستانی فوج نے جوابی کارروائی میں قبائلی اضلاع شمالی اور جنوبی وزیرستان سے متصل افغانستان کے سرحدی علاقوں میں عسکریت پسند تنظیم حافظ گل بہادر گروپ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے تھے، جن میں گل بہادر گروپ کی قیادت سمیت 70 سے زائد عسکریت پسند مارے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں