گلیوں کے ناموں سے خواتین کی غیر موجودگی نے سینیگال میں تنازع کھڑا کردیا

خواتین کی انجمنوں نے دوبارہ نامزد کردہ گلیوں کے ناموں کی فہرست پر فوری نظرثانی کا مطالبہ کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فرانسیسی ثقافتی تسلط کے نتائج سے چھٹکارا پانے کی اپنی کوششوں کے درمیان سینیگال نے خود کو ایک اور تنازع میں الجھا دیا ہے۔ اس پر خواتین کو خارج کرنے اور ان کے خلاف امتیاز کو برقرار رکھنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ اپنی حالیہ مہم میں دارالحکومت ڈاکار کی گلیوں کے ناموں کو دوبارہ نامزد کرنے اور فرانسیسی ناموں سے چھٹکارا پانے کے لیے حکام نے سیاست دانوں، فوجی رہنماؤں اور دانشوروں کے ناموں کا انتخاب کیا اور سینیگالی خواتین کی مختلف شعبوں میں شراکت کے باوجود کسی ایک خاتون کا بھی نام منتخب نہیں کیا۔

حکام کے گلیوں اور سڑکوں کے ناموں سے خواتین کو خارج کرنے کے فیصلے پر خواتین کی انجمنوں کا ردعمل آنے میں دیر نہیں لگی۔ خواتین کی آوازوں نے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور انجمنوں نے دارالحکومت ڈاکار کے میئر کو ایک اجتماعی احتجاجی خط بھی ارسال کردیا۔ اس خط میں انہوں نے دارالحکومت کی گلیوں کے ناموں کو دوبارہ نامزد کرنے اور ممتاز سینیگالی شخصیات کو اعزاز دینے اور خواتین کو خارج کرنے کے حالیہ فیصلے پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔

انجمنوں نے دوبارہ نامزد کردہ گلیوں کے ناموں کی فہرست پر فوری نظرثانی کا مطالبہ کیا تاکہ ان ممتاز خواتین کو اعزاز سے نوازا جائے تاکہ ان کی شراکت میں انصاف حاصل کیا جا سکے اور عوامی جگہوں میں خواتین کی منصفانہ نمائندگی کو فروغ دیا جا سکے۔ انجمنوں نے کہا کہ اگر گلیوں کے ناموں کو دوبارہ نامزد کرنے کا مقصد ہمارے شہری علاقوں کو ہمارے ہیروز اور رہنماؤں کی پہچان میں شامل کرنا ہے، جیسا کہ میونسپل کونسل کے فیصلے میں کہا گیا ہے تو یہ سینیگالی خواتین کی شراکت کو تسلیم کیے بغیر حاصل نہیں ہو گا۔

خواتین کے حقوق کی قیادت کرنے والے ایک گروپ نے بھی نئے جغرافیائی ناموں کے نظام سے خواتین کے ناموں کی غیر موجودگی پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا کہ بہت سی خواتین شخصیات نے سینیگال کی تاریخ پر نشان چھوڑا ہے۔ گروپ نے اپنے خط میں اس بات پر زور دیا کہ وہ ممتاز خواتین جنہوں نے اپنے ملک کی ترقی میں حصہ لیا ، احترام اور اعزاز کی مستحق ہیں۔ گروپ کی طرف سے لکھے گئے خط میں خواتین شخصیات کے ایک گروپ کا ذکر کیا گیا اور اس ناانصافی کے فیصلے کو درست کرنے کے لیے ناموں کی تجویز دی گئی۔ دیگر انجمنوں نے بھی ملک کی تاریخ میں خواتین کے کردار کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے ایک آن لائن مہم شروع کردی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں