گھڑیوں سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں! وقت کی سوئی بدلنے سے جسم پر کیا اثر پڑتا ہے؟
دنیا کے کئی ممالک نے حالیہ دنوں میں سردیوں کے وقت (ونٹر ٹائم) پر عمل کرتے ہوئے اپنی گھڑیوں کو ایک گھنٹہ پیچھے کر دیا ہے۔
بظاہر یہ تبدیلی اضافی ایک گھنٹہ نیند کا موقع فراہم کرتی ہے، مگر ماہرین کے مطابق اس کا جسم پر حیاتیاتی اور صحت سے متعلق اثر کئی دنوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔
ایک اضافی گھنٹے کی نیند… مگر اس کی قیمت بھی ہے!
جہاں بہت سے لوگوں کے نزدیک سردیوں کے وقت پر منتقل ہونا گرمیوں کی نیند کی کمی کا ازالہ سمجھا جاتا ہے، وہیں نیند کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گھڑی کے اوقات میں بار بار تبدیلی انسانی جسم کے لیے بے ضرر نہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس تبدیلی کی حیاتیاتی اور نفسیاتی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔
امریکہ کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق سال میں دو بار وقت کی تبدیلی انسانی صحت کے لیے سب سے نقصان دہ ہے، کیونکہ ہمارا جسم روشنی اور اندھیرے کے قدرتی تال میل کے ساتھ فوری طور پر خود کو ہم آہنگ نہیں کر پاتا۔
اس حوالے سے اسٹینفورڈ کے مرکز برائے نیند اور حیاتیاتی اوقات کے محقق جیمی زائٹزر کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کی حیاتیاتی گھڑی ایک آرکسٹرا کے ڈائریکٹر کی مانند ہے جبکہ جسم کے مختلف اعضا وہ آلات ہیں جنہیں مسلسل ہم آہنگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ وقت میں معمولی تبدیلی بھی اس توازن کو بگاڑ دیتی ہے، جس سے جسم کا نظام کم متوازن انداز میں کام کرنے لگتا ہے۔
سائنسدان موسمِ سرما کا وقت کیوں ترجیح دیتے ہیں؟
امریکی اکیڈمی آف اسلیپ میڈیسن اور دیگر طبی تنظیموں نے سردیوں کے وقت (معیاری وقت) کو پورا سال برقرار رکھنے کی سفارش کی ہے کیونکہ یہ قدرتی سورج کی روشنی کے چکر سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔ اس نظام میں صبح کے وقت زیادہ روشنی دستیاب ہوتی ہے، جب جسم کو تحریک اور بیداری کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
اس کے برعکس گرمیوں کا وقت صبح کی روشنی کو مؤخر کر دیتا ہے اور شام میں روشنی کے دورانیے کو بڑھا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں میلٹونن نامی ہارمون جو نیند لانے میں مدد دیتا ہے ،اس کی پیداوار تاخیر کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس سے حیاتیاتی نظام (بایولوجیکل کلاک) میں بے ترتیبی پیدا ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ معمولی سا بگاڑ چاہے چند دنوں کے لیے ہی کیوں نہ ہو، تناؤ، مزاج میں اتار چڑھاؤ، دل اور بلڈ پریشر کے مسائل کے علاوہ جسم کے میٹابولزم پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
صرف ایک گھنٹہ … جو پورے جسم کے نظام کو ہلا سکتا ہے!
اگرچہ ایک گھنٹے کی تبدیلی معمولی لگتی ہے، لیکن یہ جسم کے اندرونی نظام کے لیے خاصی الجھن پیدا کر سکتی ہے، خصوصاً اُن لوگوں میں جو پہلے ہی نیند کی کمی یا حیاتیاتی گھڑی (بایولوجیکل کلاک) کی بے ترتیبی کا شکار ہیں۔
طبی اعداد وشمار کے مطابق گرمیوں کے وقت پر منتقل ہونے کے بعد ابتدائی چند دنوں میں ٹریفک حادثات اور دل کے دوروں کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ سردیوں کے وقت میں تبدیلی بعض اوقات موسمی افسردگی (سیزنل ڈپریشن) کو بڑھا دیتی ہے، جو دن کے مختصر ہونے اور روشنی کی کمی سے جڑی ہوتی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ میں ہر تین میں سے ایک بالغ شخص تجویز کردہ سات گھنٹے کی نیند پوری نہیں کر پاتا، جبکہ نصف سے زائد نوجوان بھی مطلوبہ نیند حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وقت میں معمولی تبدیلی بھی اُن کے جسمانی اور ذہنی توازن پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔
اپنے جسم کو وقت کی تبدیلی کے ساتھ کیسے ہم آہنگ کریں؟
ماہرین کا مشورہ ہے کہ وقت کی تبدیلی سے جسم پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کے لیے چند دن پہلے سے نیند کے اوقات میں تدریجی تبدیلی کی جائے یعنی روزانہ تقریباً 15 منٹ پہلے سونا شروع کریں، تاکہ جسم کو نئے نظام کے مطابق ڈھلنے کا موقع مل سکے۔
اسی طرح صبح کے وقت سورج کی روشنی میں رہنا جسم کی اندرونی گھڑی (بایولوجیکل کلاک) کو دوبارہ متوازن کرنے کے لیے نہایت مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ اگر باہر نکلنا ممکن نہ ہو تو گھر کے اندر کھڑکیوں کے قریب بیٹھ کر قدرتی روشنی حاصل کرنا بھی مفید ہے۔
ماہرین یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ رات کے وقت موبائل، لیپ ٹاپ اور ٹی وی اسکرینوں کے استعمال کو کم کیا جائے، کیونکہ ان سے خارج ہونے والی نیلی روشنی نیند لانے والے ہارمون میلٹونن کی پیداوار میں رکاوٹ بنتی ہے اور نیند آنے میں تاخیر پیدا کرتی ہے۔
کیا امریکہ گھڑی کی تبدیلی کا سلسلہ ختم کرنے والا ہے؟
اگرچہ یہ بحث طویل عرصے سے جاری ہے، لیکن امریکی کانگریس نے ابھی تک اُس مجوزہ بل کی منظوری نہیں دی جسے ''سن شائن پروٹیکشن ایکٹ'' (Sunshine Protection Act) کہا جاتا ہے۔
اس قانون کے تحت سال بھر کے لیے گرمیوں کا وقت مستقل طور پر اپنانے کی تجویز دی گئی تھی۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں اس بل پر بحث تعطل کا شکار رہی ہے، حالانکہ کئی امریکی ریاستیں گھڑیوں کی تبدیلی کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے حق میں ہیں۔
جب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوتا، امریکی عوام کو ہر سال خزاں اور بہار میں گھڑیوں کی سوئیاں آگے پیچھے کرنے کی روایت برقرار رکھنا ہو گی، کچھ لوگ اسے ایک اضافی گھنٹے کی نیند کا موقع سمجھ کر خوش ہوتے ہیں جبکہ دیگر اس تبدیلی سے حیاتیاتی گھڑی میں پیدا ہونے والی گڑبڑ سے خائف رہتے ہیں۔
-
ڈائنامائٹ ہاؤس: ایک فلم جس نے پینٹاگون کو ناراض کر کے ایک بحث چھیڑ دی
امریکی ہدایت کارہ کیتھرین بگلو کی فلم ڈائنامائٹ ہاؤس (A House of Dynamite) ریلیز ...
ایڈیٹر کی پسند -
لونگ روزانہ کا استعمال دل کی صحت اور کولیسٹرول کو متوازن رکھنے میں معاون
لونگ جو سیزیجیوم کے پھول کے کونپلیں کہلاتی ہیں، اپنی خوشبودار مہک بھرپور ذائقے اور ...
ایڈیٹر کی پسند -
گھنٹوں کام دماغ کی طاقت اور تندرستی کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے!
مطالعہ اور کام کی زیادتی دماغ کے اُن حصوں پر اثر ڈال سکتی ہے جو مسئلے حل کرنے اور ...
بين الاقوامى