اسرائیلی وزراء صیہونی تنظیموں کےعہدوں پرآپس میں لڑپڑے،نیتن یاھوکے بیٹےکی نامزدگی پرغصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیل میں ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں دو وزیروں اور ان کی ٹیموں کے درمیان شدید جھڑپ اور چیخ و پکار کو دکھایا گیا ہے۔

ویڈیو میں وزیر برائے نقب و جلیل، یتسحاق فاسرلاوف جن کا تعلق "عوتسما یھودیت" پارٹی سے ہے کو غصے میں بھرے ہوئے کمرے میں داخل ہوتے دکھایا گیا ہے، جہاں وزیر ثقافت و کھیل میکی زوہار حزب لیکوڈ سے موجود تھے۔

بات چیت کے دوران شروع ہونے والی تلخ کلامی لمحوں میں شدید جھگڑے میں بدل گئی جو تقریباً ہاتھا پائی تک جا پہنچی، تاہم وہاں موجود افراد نے مداخلت کر کے معاملہ ٹھنڈا کر دیا۔

یہ جھگڑا صیہونی تنظیموں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان عہدوں کی تقسیم کے معاملے پر سامنے آیا، جو کہ "وسیع تر سیاسی سمجھوتے" کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔

فاسرلاوف نے زوہار پر الزام عائد کیا کہ وہ لیکوڈ کی جانب سے ہونے والے مذاکرات میں “سازش” کے ذریعے ایسا اتحاد بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں “یش عتید”، مذہبی جماعتیں “صیہونی مذہبی پارٹی” اور “کاحول لافان” جیسے گروہ شامل ہوں، لیکن “عوتسما یھودیت” کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر کی جماعت نے لیکوڈ پارٹی پر “دوغلا پن” اختیار کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ حکومت حزب اختلاف اور بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ تعاون تو کر رہی ہے لیکن جان بوجھ کر “عوتسما یھودیت” کو عہدوں سے دور رکھا جا رہا ہے۔

اسی دوران وزیر ثقافت میکی زوہار کی جانب سے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے بیٹے یائیر نیتن یاھو کو عالمی صیہونی تنظیم میں ایک اعلیٰ عہدے کے لیے نامزد کرنے پر اسرائیل بھر میں سخت ردِعمل سامنے آیا۔

زوہار نے نیتن یاھو کے بیٹے کو “ڈائریکٹر آف میڈیا” کے عہدے کے لیے نامزد کیا تھا، جو ایک ایسے عہدے کے مساوی ہے جس میں وزیر کی طرح سہولتیں اور مراعات شامل ہیں، جیسے ذاتی دفتر اور گاڑی۔

تاہم اس خبر کے پھیلنے کے بعد بدھ کی شام یروشلم میں منعقدہ عالمی صیہونی تنظیم کی مستقل کمیٹی کا اجلاس ہنگامے کے باعث ملتوی کر دیا گیا اور ووٹنگ نہیں ہو سکی۔

رپورٹس کے مطابق اس معاملے پر آئندہ دو ہفتوں میں مزید بات چیت متوقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں