پاکستان، افغانستان کا سیزفائر برقرار رکھنے، نگرانی کا نظام بنانے پر اتفاق: مشترکہ اعلامیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ مذاکرات کے بعد دونوں فریقوں کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا، جو ترک وزارتِ خارجہ کی جانب سے منظرِ عام پر لایا گیا۔

اعلامیے کے مطابق ترکیہ اور قطر کی مشترکہ ثالثی میں 25 سے 30 اکتوبر تک استنبول میں مذاکرات منعقد ہوئے، جن کا مقصد دوحہ میں 18 اور 19 اکتوبر کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانا تھا۔

دونوں فریقین نے جنگ بندی کے تسلسل پر اتفاق کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اس کے نفاذ کے قواعد و ضوابط آئندہ اجلاس میں، جو چھ نومبر کو استنبول میں ہو گا، طے کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ فریقین نے ایک مشترکہ مانیٹرنگ اور تصدیقی نظام قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جو جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار فریق پر جرمانہ عائد کرنے کا اختیار رکھے گا۔

ترک وزارت خارجہ نے ترکی اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا
ترک وزارت خارجہ نے ترکی اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ترکیہ اور قطر نے پاکستان اور افغان طالبان کے مثبت اور تعمیری رویے کو سراہا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستانی حکومت یا کسی عہدیدار کی جانب سے اس حوالے سے ابھی کوئی باقاعدہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر ترک وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے کو ری پوسٹ کیا ہے۔ خواجہ آصف اس سے قبل خبردار کر چکے تھے کہ اگر افغانستان سے مذاکرات ناکام ہوئے تو یہ ’کھلی جنگ‘ کے مترادف ہو گا۔

ادھر پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی ہے اور طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان دہشت گردوں کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکے، تاہم طالبان اس کی تردید کرتے ہیں۔

دوسری جانب افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں استنبول مذاکرات کو ’ایک پیچیدہ عمل‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ مذاکرات ’اس اتفاقِ رائے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئے کہ دونوں فریق دوبارہ ملاقات کریں گے اور باقی ماندہ امور پر گفتگو کریں گے۔‘

ذبیح اللہ مجاہد نے ترکی اور قطر کی ثالثی اور سہولت کاری کو سراہتے ہوئے مزید کہا: ’ابتدا سے ہی امارتِ اسلامی افغانستان سفارت کاری اور تفاہم پر یقین رکھتی ہے۔ اسی بنیاد پر اس نے ایک جامع اور پیشہ ور ٹیم مقرر کر کے خلوص اور سنجیدگی کے ساتھ مذاکراتی عمل کا آغاز کیا اور اس مرحلے تک مکمل تعاون اور صبر و تحمل کے ساتھ اسے جاری رکھا۔‘

مزید کہا گیا: ’جس طرح امارتِ اسلامی دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی خواہاں ہے، اسی طرح وہ پاکستان کے ساتھ بھی مثبت تعلقات چاہتی ہے اور باہمی احترام، داخلی امور میں عدم مداخلت اور کسی بھی جانب کے لیے خطرہ نہ بننے کے اصولوں پر مبنی تعلقات کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔‘

گذشتہ روز ترکیہ کی درخواست پر پاکستان نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی تاکہ امن عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں