سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے منگل کو کہا کہ ان کا ملک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ابراہم معاہدوں کے ذریعے اسرائیل سے تعلقات کو معمول پر لانا چاہتا ہے لیکن پہلے فلسطینی ریاست کے لیے ایک "واضح راستہ" ضروری ہے۔
انہوں نے اوول آفس میں ٹرمپ سے ملاقات میں کہا، "ہم ابراہم معاہدے کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ لیکن ہم یہ بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہم دو ریاستی حل کے واضح راستے کو محفوظ بنائیں۔"
انہوں نے مزید کہا، "ہم اس پر کام کرنے جا رہے ہیں تاکہ یہ یقینی ہو کہ ہم جلد از جلد صحیح صورت حال تیار کر سکتے ہیں۔ ہم اسرائیلیوں کے لیے امن چاہتے ہیں، ہم فلسطینیوں کے لیے امن چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ خطے میں ساتھ ساتھ امن سے رہیں اور ہم اس دن تک پہنچنے کی پوری کوشش کریں گے۔"
سعودی عرب نے بارہا کہا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے گا۔
اسی ملاقات کے دوران محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی مملکت امریکہ میں سرمایہ کاری میں ایک ٹریلین ڈالر تک اضافہ کر دے گی۔
دونوں ممالک کو عظیم اتحادی قرار دیتے ہوئے ٹرمپ نے اپنی طرف سے کہا، سعودی عرب کو ایف-35 لڑاکا طیارے ملیں گے جو اسرائیل کے پاس موجود جنگی طیاروں سے "کافی مشابہہ" ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر چکا ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ انہیں سعودی عرب کے ساتھ سویلین جوہری معاہدہ ہونے کا امکان نظر آتا ہے۔