غزہ میں بین الاقوامی فورس کے قیام کی کوششیں تیز … پہلا دستہ ایک ماہ بعد متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے غزہ سے متعلق امریکی مسودہ قرار داد اور بین الاقوامی فورس کے قیام کی منظوری کے چند ہی گھنٹوں بعد ... امریکہ نے اس نئی فورس کی تشکیل کے لیے تیز رفتار سفارتی کوششیں شروع کر دی ہیں۔

اسرائیلی میڈیا نے ایک اعلیٰ امریکی اہل کار کے حوالے سے بتایا ہے کہ امید ہے کہ اس کثیرالقومی فورس کے ابتدائی دستے 2026 کے اوائل میں غزہ کی پٹی پہنچ جائیں گے۔

اہل کار نے یہ بھی بتایا کہ پانچ ممالک نے ابتدائی طور پر اس بین الاقوامی استحکام فورس میں حصہ لینے میں دل چسپی ظاہر کر دی ہے۔

اسی دوران مذاکرات میں شریک ایک اور امریکی اہل کار نے وضاحت کی کہ آذربائیجان اور انڈونیشیا اس وقت شمولیت کے لیے سب سے زیادہ مضبوط امیدوار ہیں۔

اس نے مزید بتایا کہ یہ فورس پیادہ یونٹس، انجینئرنگ، انٹیلی جنس اور پولیس جیسے مختلف شعبوں پر مشتمل ہو گی۔ انھیں خاص طور پر غزہ کی ضروریات کے مطابق تشکیل دیا جائے گا۔ یہ بات اسرائیلی میڈیا ادارے i24NEWS نے بتائی۔

ایک سفارتی ذریعے کے مطابق امریکہ نے متعدد عرب ممالک کے علاوہ یورپی ممالک سے بھی رابطہ کیا ہے تاکہ وہ اس مشن کی مالی اور لوجسٹک معاونت کریں۔ واشنگٹن کا ماننا ہے کہ وسیع البنیاد بین الاقوامی شمولیت اس فورس کی زمینی ساکھ اور طویل مدتی استحکام کے لیے بہت ضروری ہے۔

اگرچہ سیاسی سطح پر پیش رفت تیزی سے ہو رہی ہے، مگر عملی اور عسکری تیاریوں کا آغاز ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔

فورس کی تربیتی سرگرمیاں ابھی شروع نہیں ہوئیں، جبکہ مطلوبہ مالی وسائل کی فراہمی کے لیے بھی کافی کام درکار ہے۔

مزید یہ کہ اس مشن کے لیے بڑے لوجسٹک انفراسٹرکچر، ایک مستقل ہیڈکوارٹر اور بین الاقوامی امدادی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی لازمی ہوگی جو غزہ کی تباہ شدہ پٹی میں دوبارہ تعمیر کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

دو روز قبل حماس تنظیم نے کہا تھا کہ سلامتی کونسل میں منظور کیا گیا امریکی مسودہ قرار داد فلسطینی عوام کے حقوق اور مطالبات کے معیار پر پورا نہیں اترتا اور انہیں اپنے مستقبل کے تعین کے حق سے محروم کرتا ہے ... اس سے غزہ کی پٹی پر ایک بین الاقوامی سرپرستی کا نظام مسلط کیا جا رہا ہے۔

حماس نے اپنے بیان میں یہ بھی واضح کیا کہ اسلحے سے متعلق کوئی بھی بحث ایک داخلی قومی معاملہ ہے۔

تنظیم نے یہ بھی خبردار کیا کہ غزہ کے اندر بین الاقوامی فورس کو "غیر مسلح کرنے" کا اختیار دینا اس کی غیرجانب داری کو ختم کر دے گا اور اسے اسرائیل کے حق میں ایک فریق بنا دے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں