روایتی سفارت کاری سے ماورا ہوکر سعودی عرب سوڈان کے معاملے میں ایک علاقائی طاقت کے طور پر کام کر رہا ہے اور بحیرہ احمر اور ہارن آف افریقہ کے علاقے میں اثر و رسوخ کی مساوات کو دوبارہ ترتیب دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
سیاسی محققین کے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے لیے کیے گئے مطالعے کے مطابق الفاشر شہر پر ریپڈ سپورٹ فورسز کے قبضے اور اس کے ساتھ ہونے والے دستاویزی قتل عام کے بعد سوڈان ریاض اور چہار فریقی شراکت داروں کی اس جنگ کو روکنے کی صلاحیت کا ایک براہ راست امتحان بن گیا ہے۔ یہ جنگ ایک کھلی علاقائی تباہی میں بدلتی جا رہی ہے۔
ریاض تنازع کے دونوں فریقوں کے درمیان قیادت کر رہا ہے تاکہ سوڈان کو تقسیم کے خطرات سے بچایا جا سکے اور جنگ کو پانچ محرکات کے ذریعے ختم کیا جا سکے۔ ان پانچ محرکات میں سیاسی حل کی راہ ہموار کرنا ، ایک جامع قومی حل تک پہنچنا ، تنازع کے دونوں فریقوں کی بیرونی حمایت کو روکنا ، علاقائی سلامتی کا تحفظ کرنا اور بحیرہ احمر کی سلامتی کو یقینی بنانا شامل ہے۔
انجینئرنگ سفارت کاری
بین الاقوامی تعلقات اور سفارت کاری کی محقق ڈاکٹر منیٰ عبدالفتاح نے وضاحت کی کہ مملکت ایک ایسا طریقہ کار اپنا رہی ہے جو "انجینئرنگ سفارت کاری" کے قریب ہے جو کثیر سطحی اتحاد کے نیٹ ورکس کے ذریعے بحرانوں کے راستوں کو دوبارہ ترتیب دیتا ہے۔ یہ اسے روایتی ثالثی سے بالاتر ایک کردار دیتا ہے اور اس کے اہم ماحول میں سٹریٹجک توازن کو کنٹرول کرنے والے ایک فعال فریق کے طور پر اس کی پوزیشن کو مستحکم کرتا ہے۔
ریاض اور خرطوم کا استحکام
ریاض کی نظر میں سوڈان کی جنگ محض ایک داخلی تنازع نہیں ہے بلکہ ایک جیو پولیٹیکل مسئلہ ہے جس کے اثرات بحیرہ احمر سے لے کر افریقی گہرائی تک آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ سوڈان کا استحکام مغربی ساحل پر بحری گزرگاہوں کی سلامتی اور سعودی ’’ ویژن 2030 ‘‘ کے منصوبوں کی ترقی کے لیے ایک براہ راست ضمانت ہے۔ مملکت سعودی عرب کا خیال ہے کہ بحیرہ احمر صرف ایک جہاز رانی کا راستہ نہیں ہے بلکہ ایک سٹریٹجک علاقہ ہے جہاں اپنے مفادات کے تحفظ اور خطے کے توازن کو ترتیب دینے کی صلاحیت کا امتحان ہے۔
سوڈان کے واقعات علاقائی استحکام کے لیے خطرہ
ریاض تنازع کے دونوں فریقوں کی بیرونی حمایت کو روکنے کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ سعودی عرب جنگ بندی کے لیے حقیقی ماحول پیدا کرنے اور ایک جامع سیاسی حل کی راہ کھولنے کو ناگزیر سمجھتا ہے۔ بحران کا حل سوڈانی-سوڈانی سیاسی حل میں مضمر ہے جو سوڈان کی خودمختاری اور اتحاد کا احترام کرتا ہے اور سوڈانی ریاستی اداروں کی حمایت کرتا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جو کچھ سوڈان میں ہو رہا ہے وہ صرف سوڈان کے عوام کو متاثر نہیں کرتا بلکہ یہ علاقائی استحکام، عرب اور افریقی قومی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے۔
سوڈان کے معاملے میں امریکی عزم
اس نقطہ نظر سے ریاض نے سوڈان کے مسئلے کو امریکی صدارتی سطح پر پہنچایا۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے ذریعے اس معاملے کو پہنچایا گیا۔ سوڈان کی صورتحال کی سنگینی کے بارے میں ولی عہد کی بریفنگ نے ٹرمپ انتظامیہ کو تنازع کے راستے کو فوری طور پر دوبارہ ایڈجسٹ کرنے پر مجبور کیا۔ اس سے قبل سوڈان طویل عرصے سے واشنگٹن کی ترجیحات سے باہر تھا۔
ریاض اور نقطۂ انقلاب
اسی تناظر میں انٹرنیشنل کرائسز گروپ میں ہارن آف افریقہ کے ڈائریکٹر ایلن بوسویل نے سعودی مداخلت کو جنگ کے راستے میں ایک نقطۂ انقلاب قرار دیا اور کہا اگر اسے تنازع کو ہوا دینے میں ملوث علاقائی فریقوں پر عملی دباؤ میں تبدیل کیا جاتا ہے تو یہ یہ ایک نقطہ انقلاب ہوگا۔ سوڈانی محقق کوسکنڈی عبدالشافی نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان کے لیے کسی مضبوط ایلچی کے بغیر کوئی بھی امریکی اقدام ملک کو دوبارہ بین الاقوامی غفلت کے دائرے میں لا سکتا ہے۔
آزادانہ اندازوں کے مطابق سوڈان میں جنگ نے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ جانیں لے لی ہیں۔ محققین کے خیالات کے مطابق بین الاقوامی دارالحکومتوں نے اس کے ساتھ ایک حد تک بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کے بعد ولی عہد اور ٹرمپ کے درمیان وائٹ ہاؤس کی ملاقات نے امریکی نقطہ نظر میں ایک معیاری تبدیلی پیدا کی۔ سعودی عرب، جو بحیرہ احمر کے ذریعے براہ راست سوڈانی ساحلوں پر واقع ہے، نے امریکہ کو ایک واضح پیغام دیا کہ جنگ کا تسلسل اس کی علاقائی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔
استحکام کے لیے امریکی وعدے
ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ سوڈان ان کے نقشوں پر نہیں تھا ۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ولی عہد کی گفتگو نے ان کے نقطہ نظر کو مکمل طور پر بدل دیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ انہیں تنازع کی تاریخ اور مقامی سیاق و سباق کے بارے میں تفصیلی وضاحت ملی جس نے انہیں سوڈان سے متعلق کچھ بہت مضبوط کرنے کا عہد کرنے پر اکسایا۔ بعد میں ’’ ٹروتھ سوشل ‘‘پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر کے ساتھ مل کر ظلم و ستم کو روکنے اور استحکام بحال کرنے کے لیے ایک راستہ شروع کرنے کا وعدہ کیا۔
خرطوم بین الاقوامی توجہ کا مرکز
دوسری جانب ڈاکٹر منیٰ عبدالفتاح کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد کی درخواست کے جواب میں حالیہ امریکی عہد بین الاقوامی دلچسپی کی سطح کو دوبارہ بلند کرتا ہے اور چہار فریقی کوششوں کو ایک نئی رفتار فراہم کرتا ہے۔ ان کی رائے میں یہ اقدام سعودی عرب کی سوڈانی فریقوں کے حامیوں پر براہ راست دباؤ ڈالنے کی صلاحیت کو وسیع کرتا ہے اور ایک انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے لیے میدان کھولتا ہے۔ تاہم شرط یہ ہے کہ سوڈانی سول قوتوں اور سیاسی اداروں کو کسی بھی عبوری انتظامات میں شامل کیا جائے تاکہ پائیدار استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ وہ یہ بھی تصدیق کرتی ہیں کہ انسانی پہلو پر امریکی توجہ سوڈان میں تباہی کی شدت کو تسلیم کرنے کی عکاسی کرتی ہے تاہم اس نقطہ نظر کی کامیابی کی صلاحیت متحارب فریقوں کے ردعمل پر منحصر ہے جیسا کہ جدہ کے راستے میں سابق تجربات نے دکھایا ہے۔
سوڈانی سیاسی محقق ڈاکٹر منیٰ عبدالفتاح نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ سعودی ثالثی کسی بھی ممکنہ حل کا بنیادی سہارا ہے۔ ریاض کے پاس عسکری، سیاسی اور قبائلی فریقوں پر محیط تعلقات کا ایک نیٹ ورک ہے جو اسے تنازع کے فریقوں کو باہمی ضمانتیں فراہم کرنے اور سیاسی راستے کو ایک مستحکم حل کی طرف رہنمائی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کردار کے ذریعے سعودی عرب کسی عارضی بحران پر قابو پانے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ علاقائی ثالثی کے ایک نئے ماڈل کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو اس کی قومی سلامتی کے تحفظ، اس کے بین الاقوامی شراکت داروں کے تئیں اس کے وعدوں اور خطے کے معاملات کو سنبھالنے میں اس کے فیصلے کی آزادی کے درمیان توازن قائم کرے۔ اگر موجودہ اقدام انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور پھر سول حکمرانی کی طرف لے جانے والے سیاسی عمل کو شروع کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ علاقائی سلامتی کی انجینئرنگ میں ایک اہم تبدیلی ہو گا۔ دوسری جانب اس اقدام کی ناکامی کا مطلب دارفور میں قتل عام کا تسلسل اور بحیرہ احمر کے دونوں کناروں پر عدم استحکام کا پھیلاؤ ہو گا۔
-
"بحران کے حل کی کوششوں پر سوڈانی سلامتی و دفاع کونسل کا سعودی ولی عہد اور ٹرمپ کا شکریہ
کونسل نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ وہ ٹرمپ کے مشیر مسعد بولس کی جانب سے سوڈان ...
بين الاقوامى -
سوڈان سے متعلق سعودی ولی عہد کا اقدام امن کی راہ دکھا رہا: عبد الفتاح البرھان
شہزادہ محمد بن سلمان کی درخواست پر خرطوم میں تنازع کے تصفیے کے لیے امریکی صدر نے ...
بين الاقوامى -
سعودی عرب کا سوڈان کے علاقے الفاشر میں سنگین انسانی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار
سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے سوڈان کے شہر الفاشر پر حالیہ حملوں میں پیش آنے والی ...
بين الاقوامى