غزہ میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کی ٹرمپ پلان کو مشکلات کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ میں بین الاقوامی فورس تعینات کرنے کی منصوبہ بندی ابتدائی مرحلے میں ہی پیچیدگیوں کا شکار نظر آ رہی ہے کیونکہ ان ممالک میں ہچکچاہٹ بڑھ گئی ہے جن کے بارے میں خیال تھا کہ وہ اس فورس میں حصہ لیں گے۔

واشنطن پوسٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ کئی غیر ملکی دارالحکومتوں میں یہ خدشات گہرے ہو گئے ہیں کہ آیا ان کے فوجی ایسے حالات میں نہ پھنس جائیں جہاں انہیں فلسطینیوں یا مسلح عناصر کے خلاف طاقت استعمال کرنا پڑے۔

غزہ کا منظر
غزہ کا منظر

انڈونیشیا اور آذربائیجان کی پوزیشن میں تبدیلی

انڈونیشیا جو پہلے ہی اعلان کر چکا تھا کہ وہ بیس ہزار تک امن فوجی بھیجے گا اب ایک بہت چھوٹی فورس بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔ جکارتہ کے ایسے حکام نے جو جاری حساس مذاکرات کے سبب نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے بتایا کہ پالیسی پر نظرثانی ہو رہی ہے۔

آذربائیجان جس کے بارے میں بھی توقع تھی کہ وہ فورس بھیجے گا اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کر رہا ہے۔ باخبر حکام کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا سوال اب بھی یہی ہے کہ آیا ان بین الاقوامی افواج کو حماس کا اسلحہ سلب کرنے کی ذمہ داری دی جائے گی۔

"یہی اصل مسئلہ ہے"

انڈونیشیا کی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ "وہ چاہتے ہیں کہ بین الاقوامی استحکام فورس غزہ میں داخل ہو جیسا کہ کہا جاتا ہے قانون اور نظم قائم کرے اور کسی بھی مزاحمت کو ختم کرے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "یہی اصل مسئلہ ہے۔ کوئی بھی یہ کام کرنا نہیں چاہتا"۔

امریکی منصوبے سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورس تین بریگیڈ یا ممکنہ طور پر پندرہ ہزار فوجیوں پر مشتمل ہو سکتی ہے۔ ایک اور ذریعے نے کہا کہ یہ تعداد بیس ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ انڈونیشی فوج ابتدائی مرحلے میں تقریباً بارہ سو فوجیوں کو روانہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے تاہم ان کے اپنے مقامات تک پہنچنے میں چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی افسران اس ذمہ داری کو لینے میں شدید تذبذب کا شکار ہیں کیونکہ انہیں اندیشہ ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ مسلح جھڑپوں میں الجھنا پڑ سکتا ہے۔

مشن کی تفصیلات کا انتظار

ایک عرب سفارت کار نے واضح کیا کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک اپنے فوجی نہیں بھیجے گا جب تک مشن کی مکمل تفصیلات سامنے نہ آ جائیں۔

ایک امریکی اہلکار کے مطابق جب متعلقہ ممالک شرکت پر رضامندی ظاہر کر دیں گے اس کے بعد فورس کی تربیت اور لوجسٹکس کی تیاری میں کم از کم کئی ہفتے لگیں گے۔

انڈونیشیا میں اکتوبر کے وسط میں جاری ہونے والی ایک داخلی فوجی رپورٹ میں بتایا گیا کہ انڈونیشی فوجیوں کو ان علاقوں میں تعینات کرنے پر غور ہو رہا ہے جو اسرائیلی کنٹرول سے باہر ہوں۔

رپورٹ میں اس امکان کا ذکر نہیں کیا گیا کہ بین الاقوامی فورس غزہ کے اس حصے میں "محفوظ" شہری علاقوں کی نگرانی کرے گی جو اب بھی اسرائیلی فوجی کنٹرول میں ہیں۔

ان شہری مراکز سے متعلق بھی زیادہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔ ایک اسرائیلی سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ ان مجوزہ شہری علاقوں میں سرکاری دفاتر، بیکریاں اور دیگر کام کی جگہیں شامل ہوں گی جنہیں "پائلٹ سائٹس" کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے تاکہ فلسطینیوں کو ان کی طرف راغب کیا جا سکے اور تعمیر نو کے بین الاقوامی منصوبوں میں شرکت بڑھائی جا سکے۔

غزہ میں حماس کا ایک کارکن
غزہ میں حماس کا ایک کارکن

یاد رہے کہ اسرائیل اب بھی غزہ سے متعلق معاہدے کے دوسرے مرحلے میں رکاوٹ ہے جس میں تعمیر نو، بین الاقوامی فورس کی تعیناتی اور عبوری حکومت کی تشکیل جیسے نکات شامل ہیں۔ اسرائیل اس تاخیر کی وجہ یہ بتاتا ہے کہ اسے تمام اسرائیلی اسیران کی لاشیں نہیں ملی ہیں (ابھی بھی دو افراد غزہ میں لاپتا ہیں جن کی تلاش جاری ہے) اور رفح میں پھنسے حماس کے جنگجوؤں کا معاملہ حل طلب ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں