امریکی حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کرسمس سے قبل غزہ کی پٹی میں امن عمل کو دوسرے مرحلے میں لے جانے اور نئے حکومتی ڈھانچے کا اعلان کرنے والے ہیں۔ دو سینئر امریکی حکام اور ایک مغربی ذریعے نے بتایا کہ غزہ کے لیے بین الاقوامی فورس اور نیا حکومتی ڈھانچہ تقریباً تیار ہے اور اسے آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ظاہر کیے جانے کا امکان ہے۔
مغربی ذریعے کے مطابق تمام امور تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور ہدف یہ ہے کہ کرسمس کی تعطیلات سے پہلے اس منصوبے کا اعلان کر دیا جائے۔
دوسرے مرحلے میں اسرائیل کا مزید انخلا، غزہ میں استحکام کے لیے بین الاقوامی فورس کی تعیناتی اور نئے حکومتی ڈھانچے پر کام کا آغاز شامل ہے۔ اس میں "امن کونسل" کی قیادت ٹرمپ کریں گے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پہلے ہی بین الاقوامی فورس اور امن کونسل دونوں کی منظوری دے چکی ہے۔
امن کونسل کے تحت ایک بین الاقوامی ایگزیکٹو باڈی تشکیل دی جائے گی، جس میں سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر، ٹرمپ کے دو مشیر جیرڈ کُشنر اور اسٹیو وِٹکوف اور دیگر ممالک کے سینئر نمائندے شامل ہوں گے۔
غزہ کے لیے نئی فلسطینی حکومت میں ٹکنوکریٹ وزرا ہوں گے جو ایگزیکٹو باڈی کے ماتحت کام کرے گی۔ مجوزہ حکومت میں 12 سے 15 ایسے فلسطینی شامل ہوں گے جنہیں انتظامی و تجارتی تجربہ ہو اور جو حماس اور فتح سمیت کسی فلسطینی جماعت سے تعلق نہ رکھتے ہوں۔ ابتدائی فہرست میں 25 نام شامل تھے جن میں سے نصف کو خارج کر دیا گیا۔ کچھ امیدوار غزہ میں رہتے ہیں جبکہ چند باہر سے واپس آئیں گے۔
بین الاقوامی فورس غزہ کے اس حصے میں تعینات کی جائے گی جہاں اس وقت اسرائیلی فوج موجود ہے، جس کے بعد اسرائیل مزید انخلا کرے گا۔
امریکی حکام کے مطابق امریکہ، قطر، مصر اور ترکیہ حماس کے ساتھ ایک ایسے معاہدے پر بات کر رہے ہیں جس کے تحت حماس غزہ کی حکمرانی چھوڑ دے گی اور بتدریج اپنا اسلحہ رکھ دے گی۔ مغربی ذریعے کے مطابق قطر اور مصر اس بارے میں پرامید ہیں، مگر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتنياہو شکوک رکھتے ہیں، اگرچہ وہ اس عمل کو موقع دینے پر آمادہ ہیں۔ ان کے مطابق فارمولا یہ ہے : اسرائیلی فوج غزہ سے باہر، حماس اقتدار سے باہر۔
اہم سوال یہ ہے کہ کیا حماس واقعی اپنے ہتھیار رکھ کر نئی حکومت کو اختیار سنبھالنے دے گی۔ اس بارے میں فیصلہ آئندہ ہفتوں میں واضح ہو گا۔
ادھر اطلاعات کے مطابق ٹرمپ اور نیتن ياہو کے درمیان دسمبر کے اختتام سے قبل ملاقات متوقع ہے تاکہ معاہدے کے اگلے مرحلے پر بات ہو سکے۔ ٹرمپ انتظامیہ جنگ کی واپسی سے بچنے اور اسرائیل و حماس کے درمیان موجود جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے دوسرا مرحلہ جلد شروع کرنا چاہتی ہے۔
معاہدے کے پہلے مرحلے کی اہم شرط ... حماس کی جانب سے تمام زندہ اور ہلاک یرغمالیوں کی حوالگی ... تقریباً مکمل ہو چکی ہے۔ اب صرف ایک اسرائیلی قیدی کی باقیات کی واپسی کا معاملہ باقی ہے، جس پر جمعرات کو اسرائیلی وفد نے مصری اور قطری ثالثوں سے بات کی۔