ترکیہ کے وزیر خارجہ خاقان فیضان نے کہا ہے امریکہ حمایت یافتہ امن منصوبے پر عمل نہ کرایا جاسکنا امریکہ سمیت پوری دنیا کی بہت بڑی ناکامی ہو گی۔ خصوصا ایسے ماحول میں جب اس امن منصوبے کے لیے صدر ٹرمپ نے خصوصی دلچسپی لی تھی اور اس پر دستخط کیے تھے۔
وزیر خارجہ ترکیہ نے یہ بات ہفتے کے روز کہی ہے۔ مغربی خبر رساں ادارے ' روئٹرز ' کے مطابق خاقان فیضان نے یہ بات دوحہ فورم کے موقع پر ایک انٹرویو میں کہی ہے۔
وزیر خارجہ نے حماس کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے ایک سوال پر کہا ایک قابل اعتماد فلسطینی سول انتظامیہ کے ساتھ ساتھ تربیت یافتہ اور تجربہ کار پولیس فورس کی پہلے ضرورت ہے۔ تاکہ حماس کے ہتھیار چھوڑنے کے ساتھ ہی یہ گروپ غزہ کی پٹی کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے پوری طرح تیار ہو۔
انہوں نے کہا سب سے پہلے یہ دیکھنا ہو گا کیا غزہ میں ٹیکنو کریٹس کی کمیٹی حکومت غزہ کا انتظام سنبھال رہی ہے۔ پھر یہ دیکھنا ہوگا کہ غزہ کے لیے پولیس فورس تشکیل دی گئی یے۔ جس کا تعلق فلسطینیوں سے ہے۔
خیال رہے ترکیہ نیٹو کا رکن ملک ہے مگر غزہ پر اسرائیلی جنگ کا بڑا ناقد رہا ہے۔ اکتوبر 2025 میں اس نے جنگ بندی معاہدے میں ثالثی کرنے اور ضامن ملک کے طور پر معاہدے پر دستخط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اسی امن معاہدے کے تحت دو سال جاری رہنے والی اسرائیل کی غزہ جنگ کا اختتام ہوا۔ تاہم ابھی جنگ بندی معاہدے کے کئی مراحل پر عمل کیا جانا باقی ہے۔ امن منصوبہ بیس نکات پر محیط ہے۔
امن منصوبے میں ٹیکنوکریٹس کی کمیٹی کا انتظامات عبوری طور پر سنبھالنا، غزہ کے لیے ایک بین الاقوامی 'بورڈ پیس' کا قیام عمل میں لانا بھی شامل ہے۔ جسے ایک بین الاقوامی استحکام فورس کی حمایت حاصل ہوگی۔
اسرائیل نے اس مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس میں ترکیہ کے فوجی دستوں کو شامل کرنے کی مخالفت کر دی ہے۔ ترک وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ غزہ کی پولیس کو اس بین الاقوامی استحکام فورس کی حمایت حاصل ہونی چاہیے۔