بھارتی وزیر اعظم مودی کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فون پر رابطہ
بڑھے ہوئے ٹیرف پر تبادلہ خیال
برطانوی وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ جمعرات کے روز فون پر گفتگو کی ہے۔ تاکہ نئی دہلی کو بڑھے ہوئے ٹیرف کے بوجھ سے بچانے کے لیے ریلیف کی بات کر سکیں۔
معلوم ہوا ہے کہ بھارت کی کوشش ہے کہ اسے ٹیرف میں 50 فیصد تک ریلیف مل جائے۔ جس کا اطلاق صدر ٹرمپ کے پچھلے مہینوں میں کیا ہے اور کئی بڑے برآمد کنندگان ملکوں پر اثر پڑا ہے۔
وزیراعظم مودی نے فون پر ہونے والی گفتگو کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ہم نے دو طرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا ہے اور علاقائی و بین الاقوامی منظر نامے پر ہونے والے واقعات پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔
خیال رہے جب سے صدر ٹرمپ نے بھارت کے خلاف ٹیرف میں اضافہ کیا ہے ٹرمپ اور مودی کے درمیان اب تک تین بار بات چیت ہو چکی ہے۔ ٹیرف میں اضافے کی وجہ سے بھارت سے ٹیکسٹائل انڈسٹری سے متعلق مصنوعات ، کیمیکلز اور فوڈ آئٹمز جن میں جھینگے بھی شامل ہیں ان کی برآمد متاثر ہوئی ہے۔
مودی نے صدر ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی اس بات چیت کو گرمجوشی پر مبنی اور جاری رہنے والی قرار دیا ہے۔ نیز کہا ہے کہ دونوں ملک عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کریں گے۔
دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی مذاکرات پچھلے ماہ جولائی میں اس وقت تعطل کا شکار ہوگئے تھے جب بھارت نے امریکی مصنوعات کے لیے اپنی منڈی کو کھولنے میں مزاحمت کی اور پاک بھارت جنگ کے دوران امریکی صدر کے کردار کی تردید کی۔
یہ بات چیت اس سے پہلے اس کے باوجود جاری تھی کہ امریکہ کے روس سے اضافی تیل خریدنے پر بھارت کو بالواسطہ پابندیوں کا نشانہ بنایا تھا۔ کیونکہ امریکہ کی کوشش رہی ہے کہ بھارت یوکرین جنگ کے دوران روس سے تیل خرید کر روسی معیشت کو مضبوط نہ کرے۔
امریکہ کے تجارت کے لیے نائب نمائندے رک سوئٹزر نے دو روزہ دہلی دورے کے دوران بھارتی حکام کے ساتھ تجارتی معاہدات پر بات کی تھی۔ اس دوران یہ بات سامنے آئی کہ بھارت سزا کے طور پر بڑھائے گئے امریکی ٹیرف میں کمی چاہتا ہے۔
پچھلے ہی ہفتے روس کے صدر ولادی میر پیوتن نے بھارت کا سرکاری دورہ کیا ہے اور بھارت کو بلا تعطل تیل کی ترسیل جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے اور امریکہ کے اس سلسلے میں دباؤ کو چیلنج کیا یے۔
یاد رہے امریکہ کے ساتھ ٹیرف معاملات میں خرابی آنے کے باعث بھارت کی مصنوعات کی برآمد میں 9 فیصد کمی ہوگئی ہے۔
رواں سال ٹیرف کے بعد کے ایک جائزے کے مطابق برآمدات 6.31 ارب ڈالر کی رہیں۔ جبکہ اس سے قبل اسی دورانیے میں پچھلے سال برآمدات کی سطح 6.91 رہی۔