برطانیہ نے سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورسز کی سینئر قیادت پر پابندیاں عائد کر دیں

برطانیہ کی وزیر خارجہ کے مطابق سوڈان میں پیش آنے والے شرم ناک واقعات انتہائی خوف ناک ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

برطانیہ نے سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے چار اعلیٰ افسران پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن میں اس کا سیکنڈ کمانڈر بھی شامل ہے۔ ان افراد پر سوڈان کی فوج کے ساتھ جاری خانہ جنگی کے دوران سنگین جرائم کے ارتکاب کا الزام ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے آج جمعے کے روز کہا کہ پابندیاں خاص طور پر ان افراد کے خلاف ہیں جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں اور اجتماعی قتل، قحط اور اجتماعی عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ مظلومین کی مدد کے لیے انسانی امداد فراہم کرے گا اور ہمیشہ سوڈانی عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

محمد حمدان دقلو
محمد حمدان دقلو

چاروں افسران میں عبد الرحیم حمدان دقلو شامل ہیں جو سپورٹ فورسز کے سربراہ محمد حمدان دقلو عُرف "حمیدتی" کے بھائی ہیں، جبکہ باقی تین افراد شمالی دارفور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جدو حمدان، تیجانی ابراہیم موسیٰ اور ابو لولو ہیں۔ ان پر الفاشر شہر میں جرائم کرنے کا الزام ہے۔ نومبر میں یورپی یونین نے بھی عبد الرحیم پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ پابندیوں کے تحت ان افسران کی جائیداد منجمد کی گئی اور انہیں برطانیہ میں داخلے سے روک دیا گیا ہے۔

برطانیہ فریقین پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ جنگ ختم ہو اور شہریوں کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے بھی برطانیہ کی قیادت میں ایک قرارداد منظور کی جس میں الفاشر میں جرائم کی فوری تحقیقات کی ہدایت کی گئی۔ اسی دوران امریکہ نے بھی ایک نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کیں جو زیادہ تر کولمبیائی باشندوں پر مشتمل تھا اور سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے لیے جنگجو بھرتی کرتا تھا۔

برطانیہ نے جمعے کے روز سوڈان کے لیے مزید 2.1 کروڑ پاؤنڈز (2.8 کروڑ ڈالر) کی ہنگامی انسانی امداد کا اعلان کیا، جس سے سالانہ امداد 14.6 کروڑ پاؤنڈز تک پہنچ گئی۔ ڈاکٹرز وَد آؤٹ بارڈرز تنظیم کے کینتھ لافیل نے بتایا کہ سوڈان میں زندگی بچانے والے تمام نظام متاثر ہوئے ہیں اور 90 لاکھ افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ سوڈانی وزیر صحت نے کہا کہ ملک میں سالانہ 30 لاکھ ملیریا کے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں اور شرح اموات بھی زیادہ ہے۔

العربیہ کے نمائندے کے مطابق شمالی کردفان کی ریاست اس وقت سب سے زیادہ بے گھر افراد کی میزبانی کر رہی ہے، جہاں تقریباً 8.64 لاکھ افراد مقیم ہیں۔ انسانی امداد کی کمیٹی کے مطابق 82 ہزار بے گھر افراد داخلی مراکز میں ہیں، جبکہ بقیہ دیگر افراد برادریوں اور رشتہ داروں کے ساتھ مقیم ہیں۔

سوڈان میں 15 اپریل 2023 سے جاری خانہ جنگی میں، فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جھڑپوں میں لاکھوں افراد بے گھر اور لاکھوں ہلاک ہوئے اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران پیدا ہو گیا۔

اکتوبر 2024 میں الفاشر شہر پر ریپڈ سپورٹ فورسز کے قبضے کے بعد نسلی بنیادوں پر قتل، اغوا، زیادتی اور دیگر سنگین جرائم کی رپورٹس سامنے آئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں