یمن میں زیادہ سے زیادہ تحمل کی ضرورت ہے : انتونیو گوتریس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے یمن کے جنوبی علاقے میں باغیوں کی پیش قدمی کے بعد کہا ہے کہ یمن میں زیادہ سے زیادہ تحمل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کے روز کیا ہے۔

یمن میں پچھلے دس سال سے خانہ جنگی کی یہ صورت حال جاری ہے۔ سیکرٹری جنرل نے اس موقع پر یہ بھی کہا ایران سے جڑے حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں اقوام متحدہ کے امدادی آپریشنز ممکن نہیں ہیں۔

یاد رہے یمنی دارالحکومت صنعا اور یمن کے شمال مغربی علاقے گنجان آباد ہیں۔ علیحدگی پسندوں کی جنوبی عبوری کونسل کی حمایت متحدہ عرب امارات کی طرف سے کی جاتی رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے حضر موت اور ماہرا اور دوسرے کئی علاقوں میں قبضہ کر لیا ہے۔

گوتریس نے کہا تمام فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے ، تناؤ کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔

انہوں نے مزید کہا اقوام متحدہ کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت اور تعمیری مشغولیت اور ہم آہنگی اجتماعی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔

خیال رہے انتونیو گوتریس سعودی عرب اور عمان کے دورے سے حال ہی میں واپس آئے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے عملے کی حراست کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

گوتریس نے کہا حوثی ڈیفیکٹو حکام نے ہمارے تین ساتھیوں کو خصوصی فوجداری عدالت میں بھیجا ہے۔ اقوام متحدہ کے فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں ان پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ انتونیو گوتریس نے مطالبہ کیا کہ ان الزامات کو فوری ختم کیا جانا چاہیے۔

یاد رہے حوثیوں کی طرف سے اقوام متحدہ کے ارکان پر جاسوسی کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ تاہم اقوام متحدہ ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

سیکرٹری جنرل نے مزید کہا ہمیں اپنا کام کسی مداخلت کے بغیر کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا چیلنجز کے باوجود ہم لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بچانے اور انہیں امداد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں کہ یمن کی آبادی کے دو تہائی افراد کو انسانی بنیادوں پر امداد کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں