برسوں کا تنازع ختم ... ٹک ٹاک نے اپنی امریکی شاخ کی فروخت کے معاہدے پر دستخط کر دیے
دنیا بھر میں معروف چینی کمپنی ٹک ٹاک نے امریکہ میں اپنے اثاثوں کو ایک مشترکہ کمپنی کے ہاتھوں فروخت کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، اس کا کنٹرول امریکی سرمایہ کاروں کے پاس ہو گا۔ یہ معلومات ایک اندرونی یاد داشت سے سامنے آئی ہیں اور اسے(Axios) نے جاری کیا۔
اس سودے کے بعد وہ برسوں پرانا تنازع ختم ہونے کی توقع ہے جس کا مقصد چینی بنیادی کمپنی 'بائٹ ڈانس' کو سکیورٹی کے قومی خدشات کی بنا پر امریکہ میں ٹِک ٹاک کے آپریشنز بیچنے پر مجبور کرنا تھا۔
ٹِک ٹاک کے سی ای او 'شو چیو' کی جانب سے بھیجی گئی اس یاد داشت کے مطابق، یہ سودا 22 جنوری تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ اس نئے امریکی ڈھانچے میں 'اوریکل' ، 'سلور لیک' اور 'ایم جی ایکس' سرمایہ کاری فنڈ کے پاس مجموعی طور پر 45 فی صد حصص ہوں گے۔
کمپنی کا تقریباً ایک تہائی حصہ 'بائٹ ڈانس' کے موجودہ سرمایہ کاروں کے پاس رہے گا، جبکہ 'بائٹ ڈانس' خود تقریباً 20 فی صد ملکیت برقرار رکھے گی۔
یاد رہے کہ گذشتہ ستمبر میں وائٹ ہاؤس اور چینی حکومت کے درمیان ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز کی فروخت کے حوالے سے ایک اصولی اتفاق ہوا تھا۔ اس کی قیادت امریکی سرمایہ کار بشمول 'اینڈریسن ہورووٹز'، 'سلور لیک' اور 'اوریکل' کر رہے تھے۔
یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2020 میں ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا جس میں 'بائٹ ڈانس' سے ٹِک ٹاک کے امریکی اثاثے بیچنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ بعد ازاں 2024 میں کانگریس نے ایک قانون منظور کیا جس کے تحت فروخت نہ ہونے کی صورت میں ایپ پر پابندی لگائی جانی تھی، اور رواں سال جنوری میں سپریم کورٹ نے بھی اس قانون کی توثیق کر دی تھی۔
تاہم صدر ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کی جانب سے فروخت کا معاہدہ طے کرنے کی کوششوں کے دوران مسلسل صدارتی احکامات کے ذریعے اس پابندی کے نفاذ کو بار بار مؤخر کیا، یہاں تک کہ اب یہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔