سلامتی کونسل اجلاس ، اسرائیل کا صومالی لینڈ کو ریاست تسلیم کرنے کا دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اسرائیلی ریاست جسے دنیا کے بہت سےملکوں نے ابھی تک ایک جائز ریاست تسلیم نہیں کیا ہے۔ اس کی طرف سے صومالیہ کی سرزمین پر بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف خود ساختہ صومالی لینڈ نامی ریاست کو تسلیم کیے جانے کے اعلان نے عالمی سطح پر ایک نئے تنازعے کو جنم دیا ہے۔

اس سلسلے میں سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا جس میں اسرائیل نے صومالی لینڈ سے متعلق اپنے مؤقف کو بیان کیا ہے۔

اسرائیلی نائب سفیر برائے اقوام متحدہ جوناتھن ملر نے سلامتی کونسل میں اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہی۔ یہ صومالیہ کے خلاف دشمنی کا اقدام نہیں اور نہ ہی اس اقدام سے دونوں صومالی فریقوں کے درمیان مکالمہ متاثر ہوگا۔ یہ ایک موقع ہے کہ اسرائیل نے صومالی لینڈ کو تسلیم کیا۔

خیال رہے اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کیا جانا یمنی حوثیوں کے مقابل اپنے ایک تزویراتی شراکت دار کو کھڑا کرنے کے لیے ہے۔ غزہ میں اسرائیل کی دو برسوں پر محیط جنگ کے دوران یمنی حوثیوں نے فلسطینیوں کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اسرائیلی جہازوں کو بحیرہ احمر میں نشانے پر رکھا تھا۔جو اسرائیلی تجارت کے لیے جنگ کے علاوہ بھی نقصان کا سبب رہا۔

22 رکنی عرب لیگ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اسرائیلی اقدام کو مستعد کر چکی ہے۔

عرب لیگ مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے تعلق رکھنے والے ملکوں پر مشتمل ہے۔ اس سب سے بڑے عرب پلیٹ فارم کا مؤقف ہے کہ یہ سب کچھ اس لیے کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کو غزہ سے نکال کر جبری طور پر صومالی عولینڈ میں منتقل کرنا چاہتا ہے۔نیز صومالی لینڈ کو اپنے فوجی مقاصد کے لیے بھی استعمال کرنا چاہتا ہے۔

اس مؤقف کا اظہار اقوام متحدہ میں عرب لیگ کے سفیر ماجد عبدالفتاح عبدالعزیز نے سلامتی کونسل میں کیا۔

پاکستان کے اقوام متحدہ میں نائب سفیر محمد عثمان اقبال جدون نے پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا اسرائیل نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے سے پہلے کہا تھا کہ صومالیہ فلسطینی شہریوں کو فلسطین سے ڈی پورٹ کرنے کے لیے ایک منزل بنے گا۔ خصوصا غزہ کے لوگوں کو صومالیہ منتقل کیا جائے گا۔ اس تناظر میں اسرائیل کا صومالی لینڈ کو خودمختار ریاست تسلیم کرنا پورے خطے کے علاوہ پاکستان کے لیے بھی تکلیف دہ ہے۔

عرب لیگ اور پاکستان کے ان اٹھائے گئے نکات کے بارے میں اپنا ردعمل دینے کے لیے درخواست کے باوجود اسرائیلی مشن گریزاں رہا۔

یاد رہے ماہ مارچ میں صومالیہ اور صومالی لینڈ کے وزرائے خارجہ نے کہا تھا کہ انہیں اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کو صومالی سرزمین پر منتقل کرنے کی کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیس نکاتی امن منصوبے میں بھی یہ تحریر کیا گیا ہے کہ غزہ کے رہنے والوں کو کوئی بھی جبری طور پر غزہ سے کہیں اور منتقل نہیں کر سکے گا۔ البتہ جو رضاکارانہ طور پر کہیں جانا چاہیں گے یا پھر جانے کے بعد واپس آنا چاہیں گے ان پر کوئی قدغن نہیں ہوگی۔

اسرائیل اس وقت اپنی تاریخ کی انتہا پسند اتحادی حکومت کے زیر انتظام ہے۔ جس میں دائیں بازو کی کئی انتہا پسند جماعتیں شامل ہیں۔ جو غزہ اور مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔ نیز فلسطینیوں پر دباؤ ڈالنے کی حمایت کرتی ہیں کہ فلسطینی سرزمین فلسطین کو چھوڑ کر چلے جائیں۔

اقوام متحدہ میں صومالیہ کے سفیر ابو کارظاہر عثمان نے کہا کہ صومالیہ اسرائیل کے اس اعلان کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔ اس مسترد کرنے میں ہمارے ساتھ کونسل کے ارکان الجیریا، سریلیون اور گیانا بھی شامل ہیں۔

صومالی سفیر نے اس موقع پر یہ بھی واضح طور پر کہا کہ صومالیہ اپنے شمالی حصے میں غزہ سے فلسطینیوں کی جبری منتقلی کو بھی کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔

اقوام متحدہ کے لیے امریکی نائب سفیر ٹیمی بروس نے کہا اس موضوع کو زیر بحث لاکر یہ سلامتی کونسل دوہری معیار کا اظہار کر رہی ہے اور اپنے بین الاقوامی سطح پر امن و سلامتی کے مشن سے ہٹ رہی ہے۔

ماہ ستمبر میں کئی مغربی ملکوں نے جن میں فرانس ، برطانیہ ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے بھی بعد ازاں شمولیت اختیار کی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا۔

سلووینیا کے سفیر نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران کہا فلسطین کسی ریاست کا حصہ نہیں ہے۔ یہ ایک مقبوضہ علاقہ ہے اور فلسطین اقوام متحدہ کے بھی ایک مبصر کے طور پر رکن ہے۔ جبکہ صومالی لینڈ اقوام متحدہ کا ایک رکن ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں