اہم علاقوں سے ربط، حضرموت کی یمن کے لیے غیر معمولی اہمیت کیوں سمجھی جاتی ہے؟

یمن کا 36 فیصد رقبہ رکھنے والا صوبہ جغرافیائی اور اسٹریٹجک حیثیت کا حامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اس میں کوئی شک نہیں کہ یمن کا صوبہ حضرموت ملکی سطح پر غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

یہ اہم صوبہ یمن کے مجموعی رقبے کا 36 فیصد حصہ رکھتا ہے اور اس کا کل رقبہ ایک لاکھ ترانوے ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔

حضرموت کو یمن کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ اور جغرافیائی و اسٹریٹجک اعتبار سے سب سے زیادہ اثر رکھنے والا خطہ قرار دیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ملک کے مستقبل سے جڑی کسی بھی سیاسی یا سکیورٹی حکمت عملی میں اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

مشرقی یمن میں حضرموت کا محل وقوع اور شمال میں سعودی عرب، جنوب میں بحر عرب، مشرق میں صوبہ المہرہ اور مغرب میں شبوہ سے قربت کے ساتھ ساتھ شمال میں مأرب اور الجوف ملاپ اسے غیر معمولی اہمیت دیتا ہے، کیونکہ یہ صوبہ یمن کے اندرونی علاقوں اور اس کے علاقائی گہرے ربط کے درمیان ایک مضبوط کڑی کی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ صوبہ نایاب جغرافیائی تنوع کا حامل ہے جو اسے دیگر صوبوں سے ممتاز بناتا ہے۔ بحر عرب کے ساتھ طویل ساحلی پٹی، وسیع وسطی سطح مرتفع، سینکڑوں کلومیٹر تک پھیلا وادی حضرموت اور ربع الخالی سے جڑی وسیع صحرائی پٹی اس کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

36 فیصد رقبے کا حامل حضر موت دو ملین آبادی پر مشتمل

یہ جغرافیائی تنوع حضرموت کو قدرتی وسائل کے لحاظ سے یمن کے امیر ترین علاقوں میں شامل کرتا ہے، جہاں تیل اور گیس کے ذخائر سرفہرست ہیں جبکہ ماہی گیری اور زرعی وسائل بھی نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔

سماجی اعتبار سے حضرمی معاشرہ گہرے تاریخی اور سماجی پس منظر کا حامل ہے۔ حضرموت کی آبادی دو ملین سے زائد بتائی جاتی ہے جو ساحل، وادی اور صحرائی علاقوں میں آباد ہے اور یہ خطہ جنوبی جزیرہ عرب کی قدیم ترین تہذیبی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔

حضرموت سمندری اور سیاسی اعتبار سے بھی نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ مکلا صوبے کا دارالحکومت اور اس کی سمندری اور سیاسی شناخت ہے جبکہ سیئون، شبام اور تریم ایسے شہر ہیں جو علمی اور تعمیراتی ورثے کے حامل ہیں۔ شبام کو مٹی سے بنی عمارتوں کے عالمی ماڈل کے طور پر پہچانا جاتا ہے اور یہ شہر عالمی انسانی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔

کیمپوں کی حوالگی اور کشیدگی میں کمی

یاد رہے کہ یمن کے صدارتی دفتر سے وابستہ ایک ذریعے نے جمعہ کے روز بتایا تھا کہ صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی صوبہ حضرموت کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور خودمختار فیصلوں کے تحت فوجی کیمپوں کی واپسی کے عمل کی پیش رفت کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یہ تمام اقدامات اتحادی افواج کی مدد سے کشیدگی میں کمی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق صدر کو حضرموت کے گورنر اور درع الوطن فورسز کے کمانڈر سالم الخنبشی سمیت متعلقہ قیادت نے آپریشن کی تفصیلات اور ان اقدامات سے آگاہ کیا جو امن و استحکام کے تحفظ، بدامنی کی روک تھام اور شہریوں کے مفادات کو نقصان سے بچانے کے لیے اختیار کیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں