صومالیہ کے صدر نے فلسطینیوں کے بارے میں اسرائیلی منصوبے مسترد کر دیے
اسرائیل کے صومالی لینڈ سے متعلق خیالات اورعزائم صومالیہ کی خودمختاری اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں: حسن شیخ محمود
صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود نے اسرائیل کے ان منصوبوں کو مسترد کر دیا ہے جو فلسطینیوں کے بارے میں اسرائیل بنا رہا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کے صومالی لینڈ سے متعلق خیالات اور عزائم کو بھی سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے یہ خیالات اور ارادے صومالیہ کی خودمختاری اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
صومالیہ کے صدر نے ان خیالات کا اظہار 'العربیہ' کے ساتھ ہفتہ کے روز ایک خصوصی انٹرویو میں کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صومالی لینڈ صومالیہ کا ہی ایک حصہ ہے، کوئی الگ ملک نہیں ہے۔ اسرائیل کے اس طرح کے خیالات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے اسرائیل کے بارے میں دوٹوک کہا اسرائیل صومالی لینڈ کے بارے میں ان خیالات کا اظہار کر رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ صومالی لینڈ میں اپنا فوجی اڈہ بنانا چاہتا ہے تاکہ عدن اور بحیرہ احمر میں اپنی بالادستی کا راستہ ہموار کر سکے۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا ہم ان اسرائیلی عزائم کو قبول کرتے ہیں نہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی ایجنڈے کو قبول کر سکتے ہیں جو انہیں غزہ سے نکال کر دوسری جگہوں پر منتقل کرنے کے لیے ہے۔ کسی بھی طرح کے حالات میں یہ قبول نہیں کیا جا سکتا۔ صومالیہ، صومالیہ ہے یہ وسیع تر فلسطین نہیں ہے۔ اس لیے اگر فلسطینیوں کی نقل مکانی کے لیے اسرائیل نے کوئی پالیسی بنائی تو یہ علاقائی حقائق سے مختلف ہو گی۔ یہ اسرائیل کا خیال اور خواب تو ہو سکتا ہے مگر حقیقت نہیں ہو سکتا۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس وقت صومالیہ کو جس صورتحال کا سامنا ہے وہ پہلے کے چیلنجوں سے زیادہ سنگین ہے۔ حتیٰ کہ دہشت گردی کے خلاف صومالیہ میں لڑی جانے والی طویل جنگ سے بھی اب معاملہ زیادہ چیلنجنگ ہے۔ صومالیہ کی کوشش ہمیشہ مکالمے کی طرف رہی ہے اور اب بھی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ محسوس کرنے پر طاقت کے استعمال کو نظر انداز نہیں کریں گے۔
صدر محمود نے کہا حکومت اپنے ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے وہ سب کچھ کرے گی جو ضروری ہو گا۔
دہشت گردی اور الشباب گروپ
صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود نے کہا ہے کہ صومالیہ دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ میں واضح طور پر کامیابی حاصل کر رہا ہے۔ تاہم یہ قابل توجہ ہے کہ صومالی لینڈ میں علاقائی سطح پر پیدا کی گئی کشیدگی انتہا پسند گروپ الشباب کو نئے مواقع فراہم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا صومالیہ کی حکومت واضح طور پر دہشت گردوں کے خلاف اپنی جنگ میں کامیاب ہو رہی ہے اور فوج کا الشباب پر دباؤ بڑھا ہے۔
خیال رہے القاعدہ سے جڑا الشباب گروپ 10 سال سے زیادہ عرصے سے صومالیہ میں کارروائیاں کر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ صومالی لینڈ میں اسرائیل کی موجودگی اور اثرات دونوں الشباب گروپ کو تقویت دینے کا باعث بنیں گے۔
انہوں نے اس سلسلے میں یہ بھی کہا خدشہ ہے کہ الشباب اس طرح کی ڈویلپمنٹس کو اپنی نئی بھرتیوں کے لیے جواز اور بہانے کے طور پر استعمال کرے گی اور اپنے مالی وسائل میں بھی اضافے کا سبب بنائے گی۔ کیونکہ یہ گروپ خود کو غیر ملکی عناصر کے خلاف متحرک قرار دیتا ہے۔ لہذا اسرائیل کی صومالی لینڈ میں اثر پذیری اور اسرائیلی حکام کی صومالی لینڈ میں آمد و رفت اس کے لیے ایک جواز پیدا کرے گی کہ وہ اپنے آپ کو نئے سرے سے متحرک کرے اور پھر سے حملے کرنا شروع کر دے۔
صدر محمود نے تسلیم کیا کہ ایک طرف خطرات موجود ہیں۔ لیکن صومالیہ کی افواج ان سارے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہے۔
صدر حسن شیخ محمود نے انٹرویو کے دوران امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان تضحیک آمیز القابات کی بھی مذمت کی جو انہوں نے پچھلے دنوں صومالیہ کے عوام کے خلاف دیے تھے کہ صومالیہ کے عوام محض کچرا اور گندگی ہیں۔
صدر صومالیہ نے کہا اس طرح کے خیالات اور تبصرے ہم مسترد کرتے ہیں۔ یہ کسی بھی طرح ہم لوگوں کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا تضحیک کرنے والوں کو خبر ہونی چاہیے کہ ہمارے عوام انتہائی ذہین اور باصلاحیت ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ تبصرہ بالکل غیر متعلق اور بلاجواز ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا اس طرح کی زبان کا استعمال صومالیہ اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو متاثر کرے گا۔
صومالی تارکین وطن
صومالیہ کے رہنما نے 'العربیہ' کو دیے گئے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ ہماری حکومت واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتی ہے۔ خاص طور پر سکیورٹی اور دہشت گردی سے متعلق امور میں۔ لیکن صومالی عوام کی عزت بھی ہمارے لیے بہت زیادہ اہم ہے۔
صومالیہ کے لاکھوں لوگ امریکہ سمیت دنیا بھر میں بہت مثبت کردار ادا کر رہے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو ہر جگہ منوا رہے ہیں۔
انہوں نے امریکہ میں صومالی تارکین وطن کے ایشو پر بات کرتے ہوئے کہا جو بھی ہمارے لوگ قانونی طور پر وہاں رہ رہے ہیں ان کو قیام کا جائز حق ملنا چاہیے۔ جہاں تک غیر قانونی طور پر رہنے والے لوگوں کا تعلق ہے تو ان کے ساتھ امریکی قانون کے مطابق ہی فیصلے ہونے چاہییں۔
صومالیہ کے صدر نے اس امر پر زور دیتے ہوئے کہا خودمختاری ، عزت و احترام ہر قوم کا حق ہے۔ ان چیزوں کو خیال میں رکھتے ہوئے ہی امیگریشن کے قوانین کا نفاذ کیا جانا چاہیے۔
یاد رہے صومالیہ سے تعلق رکھنے والے شہری امریکہ میں دوسرے ملکوں کے مقابلے میں بڑی تعداد میں ہیں۔ زیادہ تر لوگ امریکہ کی ریاستوں مینیسوٹا، اوہایو اور واشنگٹن میں رہتے ہیں۔ صومالی صدر نے قومی خودمختاری اور عزت کے حوالے سے یہ تبصرہ ایسے موقع پر کیا ہے جب امریکہ میں تارکین وطن کے بارے میں نئی خصوصی پالیسی کے تحت آئے روز بات ہوتی رہتی ہے۔
-
لبنانی وزیر کی لبنان کے اندر بشارکے حامیوں کی نقل و حرکت پر گفتگو، نئی بحث چھڑ گئی
لبنانی سرزمین پر سابق شامی حکومت سے وابستہ افسران اور اہلکاروں کی نقل و حرکت کے ...
مشرق وسطی -
غزہ شہر کے مشرقی علاقوں پر اسرائیلی بم باری
نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے آج جمعرات کی صبح سویرے غزہ کی پٹی پر ...
بين الاقوامى -
اسرائیل کا 2026 میں حماس کو غیر مسلح کرنے کا "قطعی" عزم کا اظہار
حماس تنظیم کے مسلح ونگ القسام بریگیڈز نے زور دے کر کہا ہے کہ وہ اپنا اسلحہ اس وقت ...
بين الاقوامى