بھارتی فوج کے سربراہ اوپیندر دویدی نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ متنازع خطے کشمیر میں بھارتی کنٹرول والے علاقوں میں ڈرون طیارے اڑا رہا ہے، جہاں گذشتہ برس دونوں ایٹمی حریفوں کے درمیان 4 روز تک جھڑپیں ہوئی تھیں۔
منگل کے روز نئی دہلی میں اپنی سالانہ پریس کانفرنس کے دوران دویدی نے صحافیوں کو بتایا "ہم نے انہیں (پاکستان کو) آگاہ کر دیا ہے کہ یہ عمل ہمارے لیے ناقابلِ قبول ہے اور براہِ کرم اسے بند کیا جائے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے عسکری آپریشنز کے حکام نے منگل کے روز قبل از وقت بات چیت بھی کی ہے۔
بھارتی فوج نے گذشتہ ہفتے بھارتی کنٹرول والے سرحدی دیہات کے اوپر کئی ڈرونز اڑتے ہوئے دیکھے جانے کی اطلاع دی تھی۔
دویدی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا "میرا خیال ہے کہ یہ ڈرونز دفاعی نوعیت کے تھے، جو (ہمارے علاقوں) کے اوپر پرواز کر کے یہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ آیا پاکستان کے خلاف کسی کارروائی کی منصوبہ بندی تو نہیں کی جا رہی"۔
سال1947 میں برطانوی راج سے آزادی کے بعد سے کشمیر ... بھارت اور پاکستان کے درمیان منقسم ہے۔ دونوں ممالک ہمالیہ کے اس خطے پر مکمل خود مختاری کا دعویٰ کرتے ہیں۔
مئی 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان 4 روز تک جھڑپیں ہوئی تھیں، جو نئی دہلی کی جانب سے اسلام آباد پر بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں سیاحوں پر ہونے والے مہلک حملے کی حمایت کے الزام کے چند ہفتوں بعد شروع ہوئیں۔ پاکستان نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔
ان جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 70 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ دونوں اطراف سے میزائلوں اور توپ خانے کے علاوہ بڑے پیمانے پر ڈرونز کا استعمال بھی کیا گیا تھا۔
دویدی نے مزید کہا "ہم سرحد کے ساتھ مکمل چوکس حالت میں ہیں"۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ بہت سے کم بلندی پر اڑنے والے ڈرونز اپنی روشنیاں جلا کر بھارتی کنٹرول والی فضائی حدود میں داخل ہوئے، انہوں نے بتایا کہ ہفتے کے روز تقریباً سات اور اتوار کو دو یا تین ڈرونز نے پرواز کی۔
بھارتی آرمی چیف نے خیال ظاہر کیا کہ "ممکن ہے کہ وہ (پاکستان) یہ دیکھنا چاہتے ہوں کہ آیا ہمارے دفاع میں کوئی خلا یا سستی تو نہیں ہے"۔
واضح رہے کہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گذشتہ 35 برسوں سے مختلف گروہ جدوجہد کر رہے ہیں، جو اس خطے کی آزادی یا پاکستان کے ساتھ الحاق کا مطالبہ کرتے ہیں۔