امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گذشتہ اعلان کردہ منصوبے کے تحت غزہ کا انتظام وانصرام چلانے کے لئے پندرہ رکنی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے ناموں پر اتفاق کے بعد فلسطینی صدر محمود عباس کے مشیر برائے امور دینیہ ڈاکٹر محمود الھباش نے اگلے مرحلے کے لیے غزہ کو چلانے سے متعلق طریقہ کار کی تفصیلات منظر عام پر لائے ہیں۔
ڈاکٹر الھباش نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو تصدیق کی کہ حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ پر حکمرانی چھوڑ دے گی اور سب کچھ پندرہ رکنی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کر دے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ فیصلہ جلد عملی شکل اختیار کرے گا تا کہ فلسطینی دوبارہ داخلی بحرانوں کا سامنا نہ کریں۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ سیکٹر مینجمنٹ کمیٹی اپنے فیصلوں میں خودمختار ہو گی اور فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ ہم آہنگی میں کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس کی سب سے اہم ترجیحات میں بے دخلی کو روکنا شامل ہوگا۔
سیاسی امور میں عدم مداخلت
الہباش نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کمیٹی صرف انتظامی اور تکنیکی کردار ادا کرے گی اور اس کا تعلق انسانی اور خدمات کے امور سے ہو گا، جیسے کہ ریلیف، پانی، بجلی، رہائش و مکانات اور دیگر بنیادی خدمات اور اس کا سیاسی معاملات میں مداخلت سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
الہباش نے بتایا کہ کمیٹی کی کارروائی فلسطینی اتھارٹی کے ذریعے ہوگی اور فلسطینی رہنمائی کی چھتری تنظیم آزادی فلسطین [پی ایل او] کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہو گی، جو فلسطینی امور سے متعلق سرکردہ پالیسی ساز ادارہ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ کمیٹی حکومت نہیں ہے اور نہ ہی اسے سیاسی ادارہ کہا جا سکتا ہے، بلکہ یہ ایک تکنیکی کمیٹی ہے جس کے مخصوص کام ہیں۔ کمیٹی کے ارکان کے بارے میں اگر کسی کو کوئی تحفظات ہوں تو یہ معاملہ داخلی طور پر بند کمرے میں زیرِ بحث آئے گا تاکہ ارکان اور ان کے خاندانوں کی پرائیویسی محفوظ رہے۔
الہباش نے یہ بھی کہا کہ غزہ میں صرف یہی کمیٹی اختیارات رکھے گی۔ گذشتہ روز فلسطینی دھڑے اور قوتوں نے مصر کی ضمانتوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت سے غزہ کے لیے روڈ میپ جاری کیا، جو قاہرہ میں اجلاس کے بعد طے پایا، تاکہ فائر بندی کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے ایک متحدہ حکمت عملی ہو۔
فریقین نے یہ بھی کہا کہ وہ قومی عبوری فلسطینی کمیٹی کے قیام میں ثالثوں کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں، تاکہ کمیٹی فوری طور پر غزہ کے تمام انتظامی اور بنیادی خدمات کے کام سنبھال سکے اور کونسل آف پیس اور اس کی بین الاقوامی ایگزیکٹو کمیٹی کے ساتھ تعاون کرے تاکہ دوبارہ تعمیر کے عمل کی نگرانی اور عملدرآمد ممکن ہو۔
اسی دوران امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ غزہ میں جنگ ختم کرنے کی منصوبہ بندی دوسرے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جس کا مقصد حماس کے ہتھیاروں کی ضبطی اور علاقے کی تعمیر نو ہے۔
Today, on behalf of President Trump, we are announcing the launch of Phase Two of the President’s 20-Point Plan to End the Gaza Conflict, moving from ceasefire to demilitarization, technocratic governance, and reconstruction.
— Special Envoy Steve Witkoff (@SEPeaceMissions) January 14, 2026
Phase Two establishes a transitional technocratic…
انہوں نے ایکس (X) پر لکھا: ہم امریکی صدر ٹرمپ کے 20 نکات پر مشتمل منصوبے کے دوسرے مرحلے کا آغاز کرتے ہیں، جو فائر بندی سے ہتھیار ضبط کرنے، تکنوکریٹک حکومت قائم کرنے اور تعمیر نو کے عمل کی طرف منتقل ہوتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ واشنگٹن حماس سے توقع رکھتی ہے کہ وہ اپنے تمام وعدے پورے کرے اور مزید کہا کہ امریکہ انتظار کر رہا ہے کہ حماس فوری طور پر آخری اسرائیلی قیدی کی لاش واپس کرے، ورنہ اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔