ٹرمپ کا منصوبہ ناقص، غزہ پر دوبارہ قبضہ ضروری ہے:اسرائیلی وزیر خزانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیل کے وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے سنہ 2005 ءمیں غزہ سے انخلاء کو "گناہ" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا ازالہ ضروری ہے۔ انہوں نے مغربی کنارے میں نئی ’یاتسیف‘ بستی کے افتتاح کے موقعے پر اپنے خطاب میں اعلان کیا کہ اسرائیل ساحلی علاقے غزہ پر مکمل کنٹرول کے لیے "مزید 20 سال انتظار نہیں کر سکتا"۔

’ٹائمز آف اسرائیل‘ نے رپورٹ کیا کہ سموٹریچ نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو سے غزہ پر فوری کنٹرول کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ "یا ہم، یا وہ۔ یا اسرائیلی مکمل کنٹرول، حماس کی تباہی، دہشت گردی کے طویل مدتی دباؤ، دشمن کی ہجرت کی ترغیب اور مستقل اسرائیلی آباد کاری، یا – خدا نہ کرے – جنگ کی کوششیں اور وسائل ضائع ہونا اور اگلی لڑائی کا انتظار‘۔"

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیلی اسیران کی واپسی میں کردار پر شکریہ دیا جانا چاہیے، لیکن "ان کی منصوبہ بندی اسرائیل کے لیے ناقص ہے" اور اسے نظرانداز کرنا چاہیے ۔انہوں نے واضح کیا کہ "غزہ ہمارا ہے اور اس کا مستقبل ہمارے مستقبل پر سب سے زیادہ اثر ڈالے گا"۔ اس لیے تل ابیب کو "وہاں ہونے والے حالات کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے اور فوجی حکمرانی نافذ کرنی چاہیے"۔

سموٹریچ نے اپنے سخت گیر دائیں بازو کے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے "مغربی کنارے کی کچھ بستیوں سے اخراج کے گناہ کو درست کر دیا" جو سنہ 2005 میں غزہ سے انخلاء کے ساتھ ہوا تھا، لیکن انہوں نے کہا کہ "ایک گناہ ابھی تک درست نہیں کیا جا سکا، جب کہ ایسا موقع اور فرض موجود تھا، وہ ہے گوش قطیف سے فلسطینیوں کا اخراج ہے"۔

وزیر خزانہ نے استفسار کیا "کیا یہ سب سے خوفناک قتل عام جو یہودی قوم پر ہولوکاسٹ کے بعد ہوا کافی نہیں تھاکہ اسرائیلی قیادت یہ سمجھ سکے کہ کیا کرنا چاہیے؟"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں