جاسوسی کا الزام، جرمنی نے روسی سفارت کار کو نکال دیا، یہ مضحکہ خیز اشتعال انگیزی ہے: ماسکو
سفارت کار روسی انٹیلی جنس کا رکن اور باضابطہ طور پر سفارت خانے میں ملٹری اتاشی کے طور پر کام کر رہا تھا: ڈیر سپیگل
جرمنی نے آج جمعرات کو روس کو برلن میں تعینات اپنے ایک سفارت کار کو جاسوسی کے الزام میں ملک بدر کرنے کی اطلاع دی ہے۔ دوسری طرف اس اقدام کو روسی سفارت خانے نے "مضحکہ خیز اشتعال انگیزی" قرار دے دیا۔ جرمن وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے روسی سفیر سرگئی نیچیف کو طلب کر کے انہیں روس کے لیے جاسوسی کرنے والے سفارت کار کی ملک بدری سے آگاہ کر دیا ہے۔
روسی سفارت خانے نے ایک بیان میں اس قدم کی مذمت کرتے ہوئے اسے روسی سفارتی مشن کو بدنام کرنے کے لیے ایک مضحکہ خیز اور عجلت میں تیار کی گئی اشتعال انگیزیقرار دیا۔ نیز اسے روس- جرمنی تعلقات میں تناؤ بڑھانے کا ایک بہانہ قرار دیا ہے۔ روسی سفارت خانے نے جرمن وزارتِ خارجہ کو مطلع کیا ہے کہ برلن کے ان غیر دوستانہ اقدامات کا جواب دیے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔
ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا کے دورے کے دوران جرمن وزیرِ خارجہ یوہان فادیفل نے بیان دیا کہ متعلقہ سفارت کار کو جرمنی میں فوری طور پر ناپسندیدہ شخص قرار دے دیا گیا ہے۔ جرمن جریدے "ڈیر سپیگل" کے مطابق روسی انٹیلی جنس سروس کا یہ رکن باضابطہ طور پر سفارت خانے میں ملٹری اتاشی کے طور پر کام کر رہا تھا۔ جرمن وزیرِ خارجہ یوہان فادیفل نے مزید کہا کہ ہمارے ملک میں انٹیلی جنس سرگرمیاں خاص طور پر سفارت کاری کی آڑ میں کسی صورت قبول نہیں۔
جرمن روسی فورم
رپورٹس کے مطابق یہ ملٹری اتاشی "ایلونا ڈبلیو" کے کیس کا ذمہ دار تھا جو ایک جرمن یوکرینی شہری ہے جسے بدھ کے روز برلن میں گرفتار کیا گیا اور جمعرات کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔ ایک ذریعے کے مطابق "ایلونا ڈبلیو" بین الاقوامی تعاون خصوصاً روس اور یوکرین کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے والی ایک سوسائٹی کی نمایاں شخصیت تھی اور سیاسی و کاروباری حلقوں میں جانی پہچانی تھی۔ اس کے باوجود اس ذریعے کا کہنا تھا کہ مشتبہ خاتون کا اثر و رسوخ بہت محدود تھا اگرچہ وہ "پیٹرزبرگ ڈائیلاگ" سے وابستہ حلقوں سے جڑی ہوئی تھی۔ "پیٹرزبرگ ڈائیلاگ" 2001 میں قائم ہونے والا ایک جرمن روسی بحث و مباحثے کا فورم ہے۔ اس فورم کی اہمیت پہلے ہی کم ہو چکی تھی اور پھر کرونا وبا اور اس کے بعد یوکرین کی جنگ کے دوران یہ ختم ہو گیا۔
جرمنی کا فیڈرل پراسیکیوٹر آفس ایلونا ڈبلیو پر الزام لگاتا ہے کہ اس نے روسی سفارت خانے کو یوکرین کے لیے فوجی امداد اور جرمن دفاعی صنعتوں کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ جرمن وزارتِ دفاع نے بدھ کو واضح کیا کہ اس خاتون نے یہ معلومات جرمنی کے دو سابق فوجی حکام سے حاصل کی تھیں جن میں ایک حال ہی میں ریٹائر ہونے والا سٹاف آفیسر اور ایک وہ سابق اعلیٰ عہدیدار شامل ہے جس نے 15 سال پہلے فوج چھوڑ دی تھی۔
دونوں افراد تاحال آزاد ہیں اور ان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا انہوں نے جان بوجھ کر روس کو معلومات فراہم کیں۔ دوسری طرف روسی سفارت خانے نے جرمن الزامات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں لغو قرار دیا اور کہا کہ ذکر کردہ تمام معلومات عوامی سطح پر دستیاب ہیں۔ اس مقصد کے لیے سفارت خانے نے اسلحے کی فراہمی کے حوالے سے پہلے سے شائع شدہ فہرستوں کا حوالہ دیا۔
دوبارہ مسلح ہونے کا تناظر
یہ معاملہ جاسوسی، غلط معلومات پھیلانے اور تخریب کاری کی ان کارروائیوں کی لمبی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جن کا ذمہ دار جرمن حکام ماسکو کو ٹھہراتے ہیں۔ اسے یوکرین کی مدد کرنے والے یورپی ممالک کے خلاف ہائبرڈ وار کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ ایک متعلقہ معاملے میں جرمنی کے فیڈرل پراسیکیوٹر آفس نے بدھ کو ایک روسی اور ایک جرمن شخص کی گرفتاری کا اعلان کیا جن پر دیگر الزامات کے ساتھ ساتھ مشرقی یوکرین میں روس نواز علیحدگی پسند علاقوں میں رقوم اور سامان کی منتقلی منظم کرنے کا شبہ ہے۔ ان دونوں کو جمعرات کو ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔
روسی سفارت خانے نے اس نئے کیس پر بھی تبصرہ کیا اور ڈونباس کے باشندوں اور تنظیموں کے ساتھ انسانی رابطوں سمیت ہر قسم کے رابطے کو جرم قرار دینے کی مذمت کی۔ یہ وہ علاقہ ہے جس پر روس نے قبضہ کر کے اس کے الحاق کا اعلان کر رکھا ہے۔ چانسلر فریڈرک میرٹز کی حکومت، جس نے 2025 کی بہار میں اقتدار سنبھالا، جرمن فوج اور اس کے بنیادی ڈھانچے کی دوبارہ تعمیر کو اولین ترجیح دی ہے۔ کریملن یورپیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی تردید کرتا ہے اور بدلے میں ان پر الزام لگاتا ہے کہ وہ روس کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔