مودی کے اتحادی کی بھارت میں نوعمر افراد کے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز

عالمی سطح پر سوشل میڈیا سے متعلق بحث میں شدت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ایک اتحادی نے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگانے کے لیے ایک بل کی تجویز پیش کی ہے۔ بھارت میٹا اور یوٹیوب کے لیے دنیا کی ایک سب سے بڑی مارکیٹ ہے جو اس عالمی بحث میں شامل ہو رہی ہے کہ نوجوانوں کی صحت اور حفاظت پر سوشل میڈیا کے اثرات ہوتے ہیں۔

قانون ساز ایل ایس کے دیورایالو نے جمعہ کو کہا، "نہ صرف ہمارے بچے سوشل میڈیا کے عادی ہو رہے ہیں بلکہ بھارت غیر ملکی پلیٹ فارمز کے لیے ڈیٹا تیار کرنے والا دنیا کا ایک سب سے بڑا ملک ہے۔"

"اس ڈیٹا کی بنیاد پر یہ کمپنیاں جدید ترین اے آئی سسٹمز بنا رہی ہیں جو مؤثر طریقے سے بھارتی صارفین کو ڈیٹا کے بلامعاوضہ فراہم کنندگان میں تبدیل کر رہی ہیں جبکہ اس کے ’تزویری اور اقتصادی‘ فوائد دوسرے لوگ اٹھا رہے ہیں،" انہوں نے کہا۔

یاد رہے کہ آسٹریلیا گذشتہ ماہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگانے والا اولین ملک بن گیا۔ اس اقدام کے تحت بچوں کی رسائی روک دی گئی جس کا کئی والدین اور بچوں کے حامیوں نے خیرمقدم کیا لیکن بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور آزادانہ تقریر کے حامیوں نے اس پر تنقید کی۔ فرانس کی قومی اسمبلی نے اس ہفتے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کے قانون کی حمایت کی جبکہ برطانیہ، ڈنمارک اور یونان اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

فیس بک آپریٹر میٹا، یوٹیوب کے سربراہ الفابیٹ اور ایکس نے ہفتہ کو بھارتی قانون سازی پر تبصرے کے لیے ای میلز کا جواب نہیں دیا۔ میٹا نے کہا ہے کہ وہ والدین کی نگرانی کے قوانین کی حمایت کرتا ہے لیکن "پابندیوں پر غور کرنے والی حکومتوں کو محتاط رہنا چاہیے کہ ان کے اس عمل سے نوعمر افراد کم محفوظ، غیر منظم سائٹس کی طرف راغب نہ ہو جائیں۔"

بھارت کی وزارت برائے آئی ٹی نے اس پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

سات سو پچاس ملین موبائل فونز اور ایک ارب انٹرنیٹ صارفین کے ساتھ بھارت دنیا کی دوسری بڑی سمارٹ فون مارکیٹ ہے جو سوشل میڈیا ایپس کی نمو لیے ایک کلیدی منڈی ہے اور یہاں سوشل میڈیا تک رسائی کے لیے کم از کم عمر کی حد مقرر نہیں ہے۔

دیورایالو کا 15 صفحات پر مشتمل سوشل میڈیا (عمر کی پابندیاں اور آن لائن حفاظت) بل ظاہر نہیں کیا گیا لیکن رائٹرز نے ملاحظہ کیا ہے۔ اس کے مطابق 16 سال سے کم عمر کے کسی بھی فرد کو سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے یا رکھنے کی اجازت نہیں ہو گی اور جن کا اکاؤنٹ ہے، اسے غیر فعال کر دیا جائے۔

"ہم پوچھ رہے ہیں کہ صارفین کی عمر کو یقینی بنانے کی پوری ذمہ داری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر رکھی جائے،" دیورایالو نے کہا۔

حکومت کے اقتصادی مشیرِ اعلیٰ نے جمعرات کو یہ کہہ کر توجہ حاصل کی کہ بھارت کو "ڈیجیٹل علت" سے نمٹنے کے لیے عمر کی بنیاد پر رسائی کی حد سے متعلق پالیسی بنانی چاہیے۔

دیورایالو کی قانون سازی ایک پرائیویٹ ممبر کا بل ہے جو کسی وفاقی وزیر نے پارلیمنٹ کے لیے تجویز نہیں کیا لیکن ایسے بلز اکثر پارلیمنٹ میں بحث کا باعث بنتے اور قانون سازی کو متأثر کرتے ہیں۔

ان کا تعلق جنوبی ریاست آندھرا پردیش پر حکومت کرنے والی تیلگو دیشم پارٹی سے ہے جو مودی کی مخلوط حکومت کے لیے اہمیت کی حامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں