ناروے: ولی عہد شہزادی کے بیٹے کو زیادتی کے الزامات میں گرفتار کر لیا گیا

بورگ ہوئیبی کے پاس کوئی شاہی لقب نہیں، ٹرائل آج سے شروع، مارچ کے وسط تک جاری رہنے کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ناروے کے حکام نے ولی عہد شہزادی میٹ میٹ کے بیٹے ماریوس بورگ ہوئیبی کو اتوار کی دیر گئے گرفتار کر لیا۔ ان کے وکیل نے نارویجن نیوز ایجنسی "این ٹی بی" کو بتایا کہ یہ گرفتاری عصمت دری سے متعلق الزامات کے تحت ٹرائل شروع ہونے سے دو دن قبل عمل میں آئی ہے۔ واضح رہے 29 سالہ ہوئیبی کو 38 الزامات کا سامنا ہے جن میں عصمت دری، گھریلو تشدد اور حملہ کرنا شامل ہیں۔ ان کا ٹرائل آج منگل کو اوسلو میں شروع ہونا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ہوئیبی شہزادی میٹ میٹ کے ولی عہد ہاکون سے شادی سے قبل کے سابقہ تعلق سے پیدا ہونے والے بیٹے ہیں۔ ان کے پاس کوئی شاہی لقب نہیں ہے اور نہ ہی وہ ناروے کے شاہی دربار کے باضابطہ رکن ہیں۔ موسم گرما 2024 میں ہوئیبی نے اعتراف کیا تھا کہ وہ الکحل اور کوکین کے زیر اثر اپنی اس وقت کی گرل فرینڈ کے ساتھ پرتشدد رہے اور انہوں نے اس کے اپارٹمنٹ میں چیزیں توڑ دی تھیں۔ تاہم ان کے ایک وکیل نے بعد میں بتایا کہ وہ عصمت دری کے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ شیڈول کے مطابق یہ ٹرائل اگلے ماہ مارچ کے وسط تک جاری رہے گا۔

ٹرائل کے پہلے دن فردِ جرم پڑھ کر سنانے اور افتتاحی بیانات کے بعد ہوئیبی دوسرے دن ان الزامات کا جواب دیں گے۔ اس دوران متعدد مبینہ متاثرین اور گواہوں کے بیانات بھی سنے جائیں گے جن میں مدعا علیہ کی سابقہ گرل فرینڈز بھی شامل ہیں۔ ان خواتین سے متعلق خبروں کی اشاعت اور میڈیا کوریج کے حوالے سے سخت قوانین وضع کیے گئے ہیں کیونکہ اس کیس میں غیر معمولی میڈیا دلچسپی کے پیش نظر کئی بیانات بند کمرے میں سنے جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں