سعودی عرب میں بھارتی سفیر اعجاز خان نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان گہرے تعلقات اور دفاعی شراکت داری ہے جو باہمی اعتماد سے جڑے ہوئے ہیں۔ بھارتی سفیر نے ان خیالات کا اظہار ریاض میں ہونے والے 'ڈیفنس شو' سے پہلے کیا۔ جس میں امکانی طور پر بھارتی نمائندگی کافی نمایاں ہوگی۔
سفیر کا یہ بھی کہنا تھا سعودی عرب بھارت کا انتہائی قابل بھروسہ اور قابل قدر تذویراتی شراکت دار ہے۔ ہمارے تعلقات کی گہرائی تہذیبی درجے تک گہری ہے۔ ثقافتی، تجارتی تعلقات صدیوں پرانے ہیں۔ حالیہ برسوں کے دوران یہ تعلقات تیزی سے بڑھے ہیں اور تذویراتی تعلقات کی شکل میں ڈھل چکے ہیں۔
انہوں نے ماہ اپریل 2025 کے دوران وزیر اعظم نریند مودی کے دورہ سعودی عرب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا وہ تعلقات میں ایک اہم سنگ میل تھا۔ نریندر مودی اور ولی عہد محمد بن سلمان نے جدہ میں ملاقاتوں کے دوران بہت بامعنی بات چیت کی۔ جس کے نتیجے میں کئی معاہدات سامنے آئے۔ انہی معاہدات میں سے ایک بھارت و سعودی عرب کے درمیان ریفائنریز قائم کرنے کا اشتراک ہے۔
علاوہ ازیں صحت و کھیلوں کے میدان میں بھی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوچکے ہیں۔ سفیر نے یہ بھی کہا 'دی سیکنڈ لیڈرز' اور تذویراتی شراکتی کونسل کے مشترکہ اجلاس دونوں ملکوں کے سربراہوں کے زیر صدارت ہوئے تھے۔ جس میں کونسل نے مختلف کمیٹیوں اور سب کمیٹیوں کے کام کا جائزہ لیا۔
سفیر کے مطابق پچھلے چند برسوں کے دوران بھارت و سعودی عرب کے درمیان تعاون مزید گہرا ہوچکا ہے۔ دونوں کے اعلیٰ سطح کے رابطوں میں ایک تواتر موجود ہے۔ دونوں کی افواج کا باہم تعاون و رابطہ موجود ہے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ پیش رفت دفاعی وزراء کی سطح پر دفاعی تعاون اور تذویراتی شراکت داری کو مضبوط کرنے کا باعث بنی ہے۔ پچھلے چند برسوں کے دوران ہم نے دونوں ملکوں کی بحری افواج کی مشقوں کے دو پروگرام دیکھے ہیں۔
یاد رہے 12 سال کے وقفے کے بعد بھارت کی دفاعی وزارت کے وفد نے 2024 میں سعودی عرب کا دورہ کیا۔ جس کی قیادت بھارتی وزیر مملکت برائے دفاع اجے بھاٹ نے کی۔ اس وزٹ کے دوران سفیر کے مطابق 225 ملین ڈالر کے معاہدات بھی ہوئے تھے۔ جس کے تحت بھارتی دفاعی برآمدات سے سعودی عرب نے اتفاق کیا تھا۔
سفیر نے کہا میں دفاعی نمائش کے اس موقع پر مملکت کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اس نمائش کے موقع پر بھارت کا پویلین قائم کیا جا رہا ہے جس میں وزارت دفاع کے لوگ موجود ہوں گے۔