وِٹکوف کا طیارہ بردار بحری جہاز لنکن سے دوٹوک پیغام: طاقت کے ذریعے ہی امن ممکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جوہری مذاکرات کے نازک مرحلے کے دوران امریکی صدر کے دو خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر نے بحرِ عرب میں ایران کے قریب تعینات امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ’’ابراہام لنکن‘‘ کا دورہ کیا، جہاں واشنگٹن نے طاقت کے ذریعے امن کے اپنے مؤقف کو ایک بار پھر دہرایا ۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس فوجی سے بھی ملاقات کی جس نے ایک ایرانی ڈرون مار گرایا تھا۔وٹکوف نے زور دے کر کہا کہ امریکا اپنے مفادات کا دفاع کرتا ہے، اپنے دشمنوں کو باز رکھتا ہے اور دنیا کو دکھاتا ہے کہ امریکا کس قدر تیار اور پُرعزم ہے اور ہر روز ہر صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار رہتا ہے۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز امید ظاہر کی کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہوں گے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران پر امریکی حملہ ہوا تو تہران خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہے۔

واشنگٹن اور تہران کے درمیان جمعہ کے روز عمان کے دارالحکومت مسقط میں بالواسطہ مذاکرات ہوئے، جو جون میں امریکا کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں اور اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد پہلے مذاکرات تھے۔

مذاکرات کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بات چیت کو ’’انتہائی خوشگوار‘‘ قرار دیا، جبکہ عباس عراقچی نے مذاکراتی ماحول کو ’’نہایت مثبت‘‘ بتایا۔

ٹرمپ نے جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ دونوں فریق آئندہ ہفتے کے آغاز میں دوبارہ ملاقات کریں گے۔ایرانی وفد کی قیادت عباس عراقچی نے کی، جبکہ امریکی وفد کی سربراہی صدر ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف کر رہے تھے، ان کے ہمراہ صدر کے داماد جیرڈ کشنر بھی موجود تھے۔

سٹیو وٹ کوف امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کے دورے کے دوران

’’مصافحہ‘‘

عباس عراقچی نے کہا کہ مذاکرات اگرچہ بالواسطہ تھے، تاہم ’’امریکی وفد سے مصافحے کا موقع بھی ملا‘‘۔اسی دوران امریکی ویب سائٹ Axios نے دو ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ عراقچی، وٹکوف اور کشنر کے درمیان براہِ راست بات چیت بھی ہوئی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اعتماد سازی کا راستہ ابھی طویل ہے اور اس بات پر زور دیا کہ ’’ایران کا جوہری مسئلہ صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاہدے کے لیے تیار ہے ،جو یورینیم کی افزودگی کی شرح کم کر کے اطمینان فراہم کرے۔مغربی ممالک اور اسرائیل ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کا الزام لگاتے ہیں، جس کی تہران تردید کرتا ہے اور جوہری توانائی کے پُرامن استعمال کو اپنا حق قرار دیتا ہے۔

ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کے مطابق اسرائیل کے ساتھ جنگ سے قبل ایران 60 فیصد تک یورینیم افزودہ کر رہا تھا، جو جوہری ہتھیار بنانے کی حد کے قریب ہے۔

صدر ٹرمپ متعدد بار یورینیم کی افزودگی پر مکمل پابندی کا مطالبہ کر چکے ہیں، تاہم عراقچی نے ایک بار پھر کہا کہ ’’افزودگی ہمارا ناقابلِ تنسیخ حق ہے اور یہ جاری رہے گی‘‘۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران یورینیم کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کے خیال کی مخالفت کرتا ہے، جو ماضی میں کئی بار زیرِ غور آیا۔مسقط مذاکرات ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد ہوئے، جن کا پس منظر ملک میں ہونے والے وسیع احتجاجات اور ہزاروں ہلاکتوں سے جڑا ہے۔

اسی دوران امریکا نے خطے میں طیارہ بردار بحری جہاز ابراہام لنکن اور اس کے جنگی بحری بیڑے کو تعینات کر رکھا ہے۔ عراقچی نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ ایران پر حملے کی صورت میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

’’بالادستی کا نظریہ‘‘

ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پر کسی قسم کی بات چیت کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ خالصتاً دفاعی معاملہ ہے اور اس پر مذاکرات ممکن نہیں‘‘۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات صرف جوہری فائل تک محدود ہیں، جبکہ امریکا کا اصرار ہے کہ ان میں میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت بھی شامل ہونی چاہیے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے ان نکات کو مذاکراتی ایجنڈے میں شامل کرانے کے لیے دباؤ ڈالا۔عباس عراقچی نے قطر میں الجزیرہ فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل پر شدید تنقید کی اور اس کے ’’بالادستی کے نظریے‘‘ کی مذمت کی، جو ان کے بقول اسرائیل کو اپنی عسکری طاقت بڑھانے اور خطے کے دیگر ممالک کو غیر مسلح کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’اسرائیل کا توسیع پسندانہ منصوبہ پڑوسی ممالک کو عسکری، تکنیکی، معاشی اور سماجی طور پر کمزور کرنے کا تقاضا کرتا ہے‘‘۔

13 جون کو اسرائیل نے ایران کے خلاف غیر معمولی جنگ شروع کی، جس میں جوہری، عسکری اور شہری اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں جوہری سائنسدان اور اعلیٰ فوجی کمانڈر شامل تھے۔

امریکا نے ایرانی جوہری تنصیبات پربھی حملے کیے تھے۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں سے ایران کی جوہری صلاحیت ’’ختم‘‘ ہو گئی، تاہم نقصان کی حقیقی نوعیت اب تک واضح نہیں۔

امریکا کی جانب سے ایران پر جاری ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی مہم کے تحت امریکی وزارت خارجہ نے مذاکرات کے فوراً بعد ایران کے تیل کے شعبے پر نئی پابندیاں عائد کر دیں، جن میں 15 ادارے، 2 افراد اور 14 بحری جہاز شامل ہیں۔

اسی دوران صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو حکم نامے پر دستخط کیے، جو ہفتے سے نافذ ہو گیا،جس کے مطابق ان ممالک پر اضافی تجارتی محصولات عائد کیے گئے جو ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ان محصولات کا اطلاق روس، جرمنی، ترکی اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک پر ہو گا۔عالمی تجارتی تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں ایران کی مجموعی تجارت کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ چین کے ساتھ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں