بھارتی ٹریڈ یونینوں اور کسانوں نے جمعرات کے روز پورے ملک میں ہڑتال کی ہے۔ تاکہ وہ امریکہ کے ساتھ بھارت کے حالیہ معاہدے کے خلاف اپنا احتجاج کر سکیں اور آواز اٹھائیں۔ بھارت اور امریکہ ک درمیان اسی ماہ کے شروع میں ایک عبوری تجارتی معاہدے کا اعلان کیا گیا ہے۔
بھارتی ٹریڈ یونینوں اور کسانوں نے اس عبوری معاہدہ کو بھارتی کسانوں کے مفادات کے خلاف قرار دیا ہے۔ نیز ان ملک گیر پلیٹ فارمز نے امریکہ کے ساتھ معاہدے کو چھوٹے کاروباروں اور کارکنوں کے بھی خلاف قرار دیتے ہوئے جمعرات کے روز ملک گیر ہڑتال کی کال دی تھی۔
بھارتی پارلیمنٹ میں بھی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں نے بھارتی سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ اس تجارتی معاہدے کوختم کیا جائے۔ ان قانون سازوں نے اس معاہدے کو نریندر مودی کے امریکہ کے سامنے سرنڈر کرنے کے مترادف بیان کیا ہے۔
اس ایک روزہ ہڑتال نے ملک کے طول و عرض میں نظام زندگی کو جزوی طور پر مفلوج کردیا۔ ہڑتال کے دوران سرکاری شعبوں کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ مزید یہ کہ کارخانوں میں بھی کام بند رہا اور مینو فیکچرنگ یونٹس بھی ہڑتال پر رہے۔ یہ ہڑتال ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے جب اسی سال کے اواخر میں کئی اہم بھارتی ریاستوں میں انتخابات متوقع ہیں۔
اس ہڑتال کے سلسلے میں ایک یونین لیڈر نے کہا امریکہ کے ساتھ کیے گئے اس معاہدے میں بھارتی زرعی پیداوار اور کسانوں کو دھچکا لگے گا۔ یہ لاکھوں چھوٹے کسانوں کی روز مرہ کی زندگی کو بھی بری طرح متاثر کرے گا۔
آل انڈیا ٹریڈ یونین کی جنرل سیکرٹری امرجیت کورکے مطابق سستی امریکی پیداوار بھارت میں ذخیرہ ہونے لگی ہے۔ یہ صورت حال ہمارے کسانوں کے حق میں نہیں ہوگی۔ یاد رہے انہوں نے اس ہڑتال میں بھی مکمل طور پر حصہ لیا ہے۔
بھارتی سرکار اس عبوری تجارتی معاہدے کے حق میں وکالت کرتی ہے۔ سرکار کے مطابق اس معاہدے کے نتیجے میں بھارتی مصنوعات اور اجناس کی برآمد کے امکانات بڑھیں گے۔
بھارت کے وزیر تجارت پیوش گویال نے کہا غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھے گی۔ بھارتی سرکار کے مطابق بھارتی کسانوں اور ڈیری کے شعبے کے وابستگان کے مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے۔
یاد رہے امریکہ کی طرف سے بھارت کے خلاف ٹیرف کی یلغار کے ایک ماحول سے اچانک بھارت کے لیے امریکہ کی طرف سے ٹھنڈی ہوا آئی ہے اور بھارت کی مودی سرکار کو عوام کے سامنے کچھ 'فیس سیونگ' مل گئی ہے۔ البتہ اب بھارت کو روس سے سستا تیل خریدنے سے خود کو روکنا پڑے گا۔ جس کے لیے تیل کمپنیاں بھی روس سے تیل خریدنے سے گریز ظاہر کرنا شروع کرچکی ہیں۔