یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ اقدام جسے اکثر اسکول طلباء کی بھلائی کے لیے کرتے ہیں، یعنی موبائل فون پر پابندی، دراصل ان کی ذہنی صحت پر کوئی خاص اثر نہیں ڈال رہا! ہفتہ وار سو گھنٹے سے زائد وقت صرف فون کی نگرانی میں ضائع ہونا اسکولوں کے لیے ایک بھاری بوجھ بن چکا ہے اور یہ سوال اٹھاتا ہے: کیا واقعی سخت قوانین بچوں کی فلاح و بہبود میں مددگار ہیں یا یہ محض وقت اور وسائل کا زیاں ہیں؟
برمنگھم یونیورسٹی کے محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ آٹھویں اور دسویں جماعت کے طلباء میں اضطراب، اداسی یا خوش فہمی کے لحاظ سے کوئی قابلِ لحاظ فرق نہیں پایا گیا، چاہے اسکول موبائل فون کے استعمال کے لیے نرم پالیسی اپنائے یا سخت۔
یہ تحقیق ایسے وقت میں سامنے آئی ہے ،جب دنیا بھر کی حکومتیں یا بعض منصوبہ بندی کر رہی ہیں، کہ 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے، جیسا کہ آسٹریلیا میں نافذ ہے، جیسا کہ جرمن خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے۔
مطالعے میں 20 ہائی اسکول شامل تھے، جنہیں اہم خصوصیات کی بنیاد پر منتخب کیا گیا۔ ان میں 13 اسکول سخت قواعد اپناتے ہیں اور سات اسکول زیادہ نرم پالیسی رکھتے ہیں۔ان اسکولوں کو جن میں فون کے استعمال پر نرم قوانین ہیں، دوران وقفے فون استعمال کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ سخت قوانین والے اسکول پورے تعلیمی دن یا اسکول کی حدود میں فون استعمال پر مکمل پابندی عائد کرتے ہیں۔
سخت قواعد والے اسکولوں نے بتایا کہ وہ ان قوانین کے نفاذ اور خلاف ورزی کی صورت میں سزا دینے میں اوسطاً 102 گھنٹے ہفتہ وار صرف کرتے ہیں۔
اس کے برعکس نرم قوانین والے اسکولوں نے بتایا کہ وہ فون کے انتظام اور پالیسی کے نفاذ میں اوسطاً 108 گھنٹے ہفتہ وار صرف کرتے ہیں، کیونکہ وہ پالیسی کے نفاذ اور فون سے متعلق حادثات کو ریکارڈ کرنے میں زیادہ وقت دیتے ہیں۔
محققین نے کہا کہ نتائج اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال کے انتظام کے لیے نئے طریقوں کی ضرورت ظاہر کرتے ہیں۔
برمنگھم یونیورسٹی کی ''اسمارٹ اسکولز'' مطالعے کی سربراہ پروفیسر وکٹوریہ جودیئر نے کہا: اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال کی پالیسیاں، چاہے نرم ہوں یا سخت، نفاذ کے وقت اسکول کے لیے بھاری بوجھ بنتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: اساتذہ کا زیادہ وقت فون کے انتظام یا متعلقہ رویوں کی نگرانی میں لگنا دیگر سرگرمیوں سے منحرف کر دیتا ہے جو طلباء کی فلاح و بہبود کو بڑھا سکتی ہیں، جیسے کہ نفسیاتی و سماجی مدد یا غیر نصابی سرگرمیاں۔
لہٰذا ہمیں اسکولوں میں نوجوانوں کے موبائل فون کے استعمال کے لیے نئے اور مؤثر طریقے اپنانے کی ضرورت ہے۔
محققین نے یہ بھی بتایا کہ سخت قوانین والے اسکولوں کو کچھ رقم کی بچت ہوتی ہے کیونکہ قوانین کے نفاذ میں کم وقت لگتا ہے اور تخمینہ ہے کہ سخت قوانین والے اسکولوں میں ہر طالب علم پر سالانہ خرچ تقریباً 94 پاؤنڈ (128 ڈالر) کم آتا ہے، بنسبت نرم قوانین کے اسکولوں کے۔
پروفیسر حارث الجنابی مطالعے کے مرکزی مصنف اور برمنگھم یونیورسٹی کی ہیلتھ اکنامکس یونٹ کے سربراہ نے کہا: اگرچہ سخت پالیسی کے نفاذ میں وسائل کا فرق تھوڑا ہے، ہم بخوبی سمجھتے ہیں کہ فون کے استعمال کی نگرانی اسکولوں کے لیے بھاری بوجھ ہے اور سخت ترین پالیسی کوئی جادوئی حل نہیں ہے۔
اس مطالعے کے ڈیٹا 2022 اور 2023 کے درمیان جمع کیے گئے، اس سے پہلے کہ برطانیہ کی حکومت نے اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی کے لیے قانونی طور پر غیر لازم رہنما خطوط جاری کیے۔