ایران پر امکانی حملہ ، برطانیہ نے اپنے فوجی اڈے امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکہ کے ایران پر حملے کے ارادوں کے پیش نظر اسے برطانوی فوجی اڈوں سے جنگی آپریشنز کے لیے سہولت کی ضرورت ہے۔ مگر برطانیہ نے اس مقصد کے لیے اپنے فوجی اڈے امریکی افواج کے حوالے کرنے سے عدم اتفاق کرتے ہوئے انکار کر دیا ہے۔

برطانیہ کے اس جواب کے بعد امریکہ کے صدر نے بھی اپنی وہ حمایت واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے جو چاگوس جزیرہ ماریشس کو دینے کے پہلے سے کیے گئے معاہدے کے متعلق دی تھی۔

میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس ایران کے خلاف حملوں کے لیے تفصیلی منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے امریکہ کو ڈیگو گارشیا کے اڈے کے علاوہ برطانوی ایئر فورس کے فیئر فورڈ اڈے کی بھی ضرورت ہے جو گلوسٹد شائر میں واقع ہے۔ اس اڈے کو یورپ میں امریکی بحری بیڑے کی تعیناتی کا اہم مرکز خیال کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ برطانیہ کے معاہدے کے مطابق یہ طے ہے کہ برطانیہ کے فوجی اڈے امریکہ صرف ان آپریشنز کے لیے استعمال کر سکے گا جن کے بارے میں برطانیہ کو پیشگی اعتماد میں لیا گیا ہوگا اور بتایا گیا ہوگا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی رات برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر سے فون پر بات کی کہ انہوں نے ایران کو جوہری پروگرام کے سلسلے میں الٹی میٹم دے رکھا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس موقع پر باہم تبادلہ خیال کیا۔ جبکہ اگلے روز ٹرمپ کا ایک بیان سامنے آیا جس میں انہوں چاگوس معاہدے کو نشانہ بنانے کی بات کی۔

خیال رہے جون 2025 کی ایران کے خلاف لڑی جانے والی اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ جنگ کے بعد ایک بار پھر امریکہ اور اسرائیل باہم متفق ہیں کہ اگر ایران جوہری پروگرام سے باز نہیں آتا تو اسے جنگی حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔ ایران کے خلاف کشیدگی کی فضا پیدا کرنے کا یہ موقع ان پر ہنگام مظاہروں کے باعث پیدا ہوا ہے جن کے دوران کئی ہزار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ ہلاکتیں 3117 ہیں جگہ امریکی این جی او کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد لگ بھگ چھ ہزار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں