روایات کی تڑپ ٹیکنالوجی کے اثرات کے سامنے ڈٹ گئی، رمضان میں الجزائر کے باشندوں کی عادات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

رمضان المبارک کی آمد نے الجزائر کے باشندوں میں اپنی روایات اور مقامی ثقافت کے لیے ایک نئی تڑپ پیدا کر دی ہے۔ ماؤں نے وہ قیمتی اور روایتی برتن نکال لیے ہیں جو عام طور پر بڑے مواقع کے لیے سنبھال کر رکھے جاتے ہیں، جبکہ خاندانوں نے افطار کے بعد ملاقاتوں اور خیر و بھلائی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔

الجزائر میں روزے داروں کی عادات رمضان شروع ہوتے ہی بدل جاتی ہیں۔ گھروں میں ماؤں کی تیاریاں عروج پر ہوتی ہیں اور گھر کسی کھلی ورکشاپ کا منظر پیش کرنے لگتے ہیں، جہاں مٹی اور تانبے کے روایتی برتنوں کی صفائی ستھرائی کی جاتی ہے یا اس خاص موقع کے لیے نئے برتن خریدے جاتے ہیں۔

ملیکہ تین بچوں کی ماں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ "رمضان کی ایک خاص لذت ہے۔ اگرچہ کچھ لوگ اسے جسمانی طور پر تھکا دینے والا مہینہ کہتے ہیں، لیکن میں اسے نظم و ضبط کا مہینہ سمجھتی ہوں جو مجھے کھانا پکانے، گھومنے پھرنے اور خاندان سے ملنے کے لیے مناسب وقت فراہم کرتا ہے۔"

الجزائری گھرانے اس ماہ کو خاندانی ماحول میں گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ شادی شدہ بچے اپنے اہل و عیال کے ساتھ والدین کے گھر کا رخ کرتے ہیں تاکہ بھائیوں اور عزیزوں کے ساتھ وہ لمحات دوبارہ جی سکیں جو ٹیکنالوجی کے دور میں سوشل میڈیا کے مختصر پیغامات تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

اس سلسلے میں 42 سالہ اسماعیل بتاتے ہیں کہ "والدہ کی وفات کے بعد یہ ہمارا پہلا رمضان ہے، اس لیے ہم تمام بھائیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم والد کے ساتھ گھر پر وقت گزاریں تاکہ ان کی تنہائی کا دکھ کم کر سکیں اور اپنے بھائی چارے کو مضبوط بنائیں۔"

رمضان کے دوران خیراتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ فلاحی تنظیمیں مخیر حضرات اور ضرورت مندوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتی ہیں۔ سڑکوں پر دسترخوان سجائے جاتے ہیں اور "رمضان کی ٹوکری" کے نام سے راشن تقسیم کیا جاتا ہے۔ فلاحی تنظیم "الوئام" کے کارکن سمیر صحراوی کا کہنا ہے کہ "الجزائر کے عوام رحمت کے اس مہینے میں کسی کو بھوکا نہیں دیکھ سکتے، اس لیے ہم افطار سے قبل گلیوں اور محلوں میں ضرورت مندوں اور بے گھر افراد میں کھانا تقسیم کرتے ہیں۔"

الجزائری دسترخوان پر "حریرہ"، "شوربہ"، "بوراک" اور "قلب اللوز" جیسی ڈشز نمایاں ہوتی ہیں۔ اگرچہ الجزائر کے مختلف علاقوں میں کھانوں کے ذائقے مختلف ہیں، لیکن اب خاندان ایک دوسرے کی تراکیب نقل کر کے دسترخوان میں تنوع پیدا کر رہے ہیں۔ ماضی میں دارالحکومت کے لوگ "شوربہ فریک" اور مغربی علاقوں کے لوگ "حریرہ" کے پابند تھے، لیکن اب انٹرنیٹ اور خاندانی دوروں کی بدولت ہر علاقے کی ڈشز ہر جگہ مقبول ہو رہی ہیں۔ مٹھائیوں اور پکوانوں کا یہ تنوع اب ٹیکنالوجی کی وجہ سے اتنا پھیل چکا ہے کہ بعض اوقات یہ پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ دسترخوان کس مخصوص علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں