امریکی حکام نے پیر کو ایک حیران کن انکشاف کرتے ہوئے چھ سال پرانے چینی زیرِ زمین جوہری تجربے کے راز فاش کیے، جو اب تک خفیہ تھے۔ یہ انکشاف نہ صرف عالمی سلامتی کے حلقوں میں ہلچل مچا رہا ہے بلکہ جوہری ہتھیاروں کے عالمی توازن کے حوالے سے نئے سوالات بھی پیدا کر رہا ہے۔
انہوں نے اس موقع پر دیگر ممالک پر زور دیا کہ وہ چین اور روس پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ جوہری ہتھیاروں کے انخلا کے سلسلے میں مزید اقدامات کریں۔
کرسٹوفر یاو وزارتِ خارجہ کے دفتر برائے ہتھیاروں کی نگرانی، تصدیق اور پابندی کے معاون وزیر ہیں،انھوں نے یہ بات اقوامِ متحدہ کی ایک معاون کمیٹی کے سامنے کہی۔
یہ موقع اس ماہ آیا جب امریکہ اور روس کے درمیان آخری جوہری ہتھیاروں کی معاہدے کی میعاد ختم ہو گئی، جس کے نتیجے میں دنیا کی سب سے بڑی جوہری طاقتوں کی جوہری ذخائر پر عائد پابندیاں ختم ہو گئی ہیں۔ اس صورتحال نے نئے اسلحہ دوڑ کے امکانات کے بارے میں خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
یاو نے چین سے مزید شفافیت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ معاہدہ "نیو اسٹارٹ" کے کچھ پہلو کمزور ہیں، مثلاً یہ معاہدہ روس کے غیر اسٹریٹجک جوہری ہتھیاروں کے ذخائر، جو تقریباً دو ہزار وار ہیڈ پر مشتمل ہیں، ان پر قابو پانے میں ناکام رہا۔
چینی جوہری پروگرام کی پراسراریت
اقوامِ متحدہ کی معاون کمیٹی برائے ہتھیاروں کی کمیٹی کے اجلاس میں امریکی اہلکار نے کہا:نیو اسٹارٹ معاہدے کی سب سے بڑی کمزوری شاید یہ تھی کہ اس نے چین کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کے تیز، منصوبہ بند اور غیر معمولی اضافے کو مدنظر نہیں رکھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیجنگ نے اپنی جوہری ذخائر کو بڑے پیمانے پر، جان بوجھ کر اور بغیر کسی پابندی کے بڑھایا، حالانکہ اس نے اس کے برعکس یقین دہانیاں کرائی تھیں ،انھوں نے چین کی شفافیت کی کمی پر افسوس کا اظہار کیا، خاص طور پر اس بات پر کہ اس کے "نقطۂ اختتام" یا حتمی اہداف کیا ہیں۔
انہوں نے کہا:ہمیں لگتا ہے کہ چین اگلے چار سے پانچ سال کے دوران جوہری توازن حاصل کر سکتا ہے۔یاو نے اپنی تقریر میں چین کے مغرب میں زیرِ زمین لوب نور سائٹ پر 22 جون 2020 کو ہونے والے ایک دھماکے کا ذکر کیا، جسے زلزلے کے طور پر ریکارڈ کیا گیا اور اس کی شدت 2اعشاریہ75 ریکٹر اسکیل تھی۔
انہوں نے بتایا کہ یہ معلومات قازقستان کی ایک بین الاقوامی نگرانی اسٹیشن سے حاصل کی گئی تھیں۔انہوں نے وضاحت کی:یہ ممکنہ دھماکہ تھا، جس کا اندازہ تاریخی زلزلوں اور دھماکوں سے موازنہ کر کے لگایا گیا۔ زلزلے کے اشارے ایک منفرد دھماکے کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جو کان کنی کے دھماکوں میں غیر معمولی ہے۔
چین کی الزامات کی تردید
چین کے سفیر نے پیر کو اجلاس میں کہا کہ بیجنگ امریکی الزامات کوقطعی طور پر بے بنیاد قرار دیتا ہے اور بعض ممالک کی طرف سے چین کی جوہری پالیسی کی مسلسل غلط تشریح کی شدید مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا:امریکہ کا چین پر جوہری دھماکے کا الزام لگانا بے بنیاد ہے اور یہ صرف اپنے جوہری تجربات کو دوبارہ شروع کرنے کی ایک بہانہ سازی ہے۔
سفیر نے مزید کہا کہ:امریکہ کی جانب سے دیگر ممالک کی بدنامی کے ذریعے اپنے بین الاقوامی جوہری پابندی کے وعدوں سے بچنے کی کوشش اس کی عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکہ اور چین آج منگل کو ایک ممکنہ کثیرالجہتی معاہدے کے لیے بات چیت کریں گے تاکہ جوہری ہتھیاروں کی کمی پر اتفاق کیا جا سکے۔
اسی طرح امریکہ نے روس کے ساتھ جنیوا میں مذاکرات کیے اور ایک وسیع دائرے کا نیا معاہدہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جو چین اور روس دونوں کو شامل کرے، خاص طور پر اس کے بعد کہ نیو اسٹارٹ معاہدے کی مدت ختم ہو گئی ہے۔
-
چین نے خفیہ طور پر زیرِ زمین جوہری تجربہ کیا : امریکی الزام
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ایک سینئر امریکی عہدیدار نے منگل کے روز نئی تفصیلات ...
بين الاقوامى -
چین پہاڑوں میں بنکرز اور جوہری تنصیبات بنانے میں مصروف: سیٹیلائٹ مناظر جاری
عالمی قوتوں کے درمیان مقابلے کے نئے دور میں چین کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری ...
بين الاقوامى -
تجارتی کشیدگی کے بیچ ... ٹرمپ 31 مارچ سے 2 اپریل تک چین کا دورہ کریں گے
فروری کے بعد دونوں ملکوں کے سربراہوں کے درمیان یہ پہلی بات چیت اور اکتوبر کے بعد ...
بين الاقوامى