ایرانی نظام کی تبدیلی یا جوہری پروگرام کا خاتمہ، ایران کے خلاف جنگ کا مقصد کیا ہے؟

مصر کے عسکری ماہرین کے مطابق ایرانی نظام کی جگہ مغرب نواز نظام کا قیام اور جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ جنگی اہداف میں شامل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے متعدد حملوں جن کے نتیجے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور کئی اعلیٰ ایرانی رہنماؤں کی جانیں گئیں اور اس کے جواب میں اسرائیل اور خطے کے متعدد ممالک میں ایرانی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں مسلسل تناؤ پایا جاتا ہے۔ آخر ایران کے خلاف جنگ کا مقصد کیا ہے؟ نظام کی تبدیلی یا جوہری پروگرام کا خاتمہ؟۔

مصری عسکری اکیڈمی برائے اعلیٰ تعلیم اور اسٹریٹجک سٹڈیز کے لیکچرر میجر جنرل محمد فرغلی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ جنگ کا مقصد موجودہ نظام کا خاتمہ، جوہری پروگرام کو روکنا اور اس کی جگہ مکمل طور پر مغرب نواز نظام قائم کرنا ہے۔ اس مقصد کا حصول مشکل ہو رہا ہے کیونکہ وہاں ایک دینی ادارہ اور سیاسی نظام موجود ہے جنہیں ایک دوسرے سے الگ کرنا دشوار ہے۔

دو نظام جنہیں الگ کرنا مشکل ہے

میجر جنرل محمد فرغلی نے مزید کہا کہ اسے کئی نکات میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے، پہلا وہ ضرب جو ایران کو فضائی دفاع کو بے اثر کرنے اور رہنماؤں اور حکام کے قتل کے ساتھ لگی اور دوسرا یہ کہ ایرانی نظام ایک نظریے، مذہبی اور فرقہ وارانہ فکر اور مذہبی فکر میں لپٹے سیاسی نظام پر قائم ہے جنہیں الگ کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ایران کو اس وقت جن بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے ان میں داخلی محاذ کا استحکام اور ایرانی عوام کا موجودہ نظام کو گرانے کے لیے ناراض ہو کر باہر نہ نکلنا ہے، اور یہی وہ چیز ہے جس پر امریکہ اور اسرائیل شرط لگا رہے ہیں۔

میجر جنرل فرغلی کا ماننا ہے کہ ایران اس وقت تک مذاکرات کی میز پر نہیں آئے گا جب تک کہ اسے فوجی، نفسیاتی اور اخلاقی طور پر شکست نہ دی جائے اور وہ خالی ہاتھ نہ ہو جائے، جیسا کہ عراق کے ساتھ صفوان کانفرنس میں ہوا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی نظام کے انہدام کی صورت میں خطے میں اسرائیل کے حق میں اسٹریٹجک خلا پیدا ہو جائے گا۔

نقصانات کا حجم ابھی واضح نہیں

دوسری جانب عسکری اکیڈمی برائے اعلیٰ تعلیم اور اسٹریٹجک سٹڈیز کے مشیر میجر جنرل یاسین طاہر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ موجودہ ایرانی جنگ میں اب تک حاصل ہونے والے میدانی نتائج کو دیکھتے ہوئے، میرا ماننا ہے کہ متصادم فریقوں کے نقصانات کے حجم کی حقیقی تصویر ابھی تک واضح نہیں ہوئی ہے، اس لیے میں اس کے مزید طویل عرصے تک جاری رہنے کی توقع کرتا ہوں۔ جہاں تک اہداف اور ان کے حصول کی بات ہے، تو یہ بنیادی طور پر ایرانی نظام کو گرانے یا اس نظام میں معیار تبدیلی لانے تک محدود ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ اس کے بعد جوہری پروگرام کا حتمی خاتمہ اور بیلسٹک میزائل پروگرام کی تباہی آتی ہے۔ رہنماؤں کو قتل کرنے، صلاحیتوں کو ختم کرنے اور ملک کو ہدفی انتشار میں دھکیلنے کی کارروائیاں جاری رہنے کی توقع کرتا ہوں تاکہ ان اہداف کا مکمل حصول ممکن ہو سکے۔

میجر جنرل یاسین طاہر کا ماننا ہے کہ ایران کو موجودہ اور اگلے مرحلے میں جن چیلنجوں کا سامنا ہے، ان میں سرفہرست عسکری یا اقتصادی طور پر نام نہاد اسٹریٹجک ریزرو کے ساتھ مزاحمت جاری رکھنے کی صلاحیت ہے، اس کے علاوہ (انتہا پسند/اصلاح پسند) دھڑوں کے درمیان متوقع تنازعہ ایک داخلی چیلنج ہے اور اسی طرح نسلی تصادم کا ظہور بھی ممکن ہے۔

ایران کے اندر پانچواں کالم

انہوں نے مزید کہاکہ سب سے خطرناک چیلنج اتحادیوں کا کھو جانا ہے، خاص طور پر پڑوسی ممالک پر حملے اور موثر قوتوں کی جانب سے ساتھ چھوڑ دینے کے بعد، حفاظتی رخنہ اور ایرانی معاشرے کے اندر نام نہاد پانچواں کالم بھی ان چیلنجوں میں ایک نیا چیلنج بن گیا ہے، جو علاقائی ماحول میں ایرانی انقلاب کو مسلط اور برآمد کرنے کی ایرانی پالیسی کے نتیجے میں پرانی جڑیں رکھتے ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ نظام کی معیاری تبدیلی میں کامیابی کی صورت میں پسپائی اور مذاکرات کو قبول کر لیا جائے گا، جس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size