ایران پر حملوں کا آج کا دن شدید ترین ہوگا: امریکی وزیر دفاع

امریکی چیف آف اسٹاف: بارودی سرنگیں بچھانے والے ایرانی جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ آج منگل ایران پر فضائی حملوں کا دن حملوں کے آغاز سے اب تک کا شدید ترین دن ہوگا۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہیگستھ نے مزید کہا کہ آج منگل کے روز ایران کے خلاف لڑاکا طیاروں اور بمبار طیاروں کی سب سے بڑی تعداد اڑان بھرے گی۔

ہیگستھ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی فوج اپنے اہداف انتہائی درستگی کے ساتھ حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایران میں اپنے اہداف کامیابی سے حاصل کر رہے ہیں جہاں ہم ان کے فضائی دفاع، میزائلوں اور بحری صلاحیتوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ امریکی وزیر نے مزید کہا کہ ہمارے اہداف میں ایرانی بحریہ کی تباہی بھی شامل ہے۔ ہیگستھ نے واضح کیا کہ امریکہ اس دشمن کے مکمل خاتمے سے قبل اپنی کارروائیاں ختم نہیں کرے گا۔

ہیگستھ نے تہران پر سویلین تنصیبات کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے میزائل سکولوں اور ہسپتالوں سے فائر کرتا ہے۔ انہوں نے ایرانی نظام کو ایک ایسا نظام قرار دیا جس نے دہائیوں تک امریکی فوجیوں کو نشانہ بنایا اور ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی کوشش کی۔ وزیر دفاع نے ایرانی جارحانہ صلاحیتوں میں کمی کے آثار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کے اندر سے فائر کیے جانے والے میزائلوں کی تعداد میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ہیگستھ نے زور دے کر کہا کہ ایران اب اکیلا کھڑا ہے اور اسے عبرتناک شکست ہو رہی ہے۔

ایرانی بارودی سرنگیں

دوسری جانب امریکی فوج کے چیف آف جوائنٹ اسٹاف جنرل ڈین کین نے آج منگل کے روز بتایا کہ امریکہ نے بارودی سرنگیں بچھانے والے ایرانی بحری جہازوں پر حملے کیے ہیں۔ کین نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف مہم کے ابتدائی دس دنوں کے دوران 50 سے زائد جنگی جہازوں کو غرق یا تباہ کر دیا ہے۔

غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ

ہیگستھ نے گذشتہ اتوار کو تہران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ تہران پر ہمارے حملے مزید شدید ہوں گے اور یہ بالکل طے شدہ منصوبے کے مطابق چل رہے ہیں۔ انہوں نے این بی سی (NBC) چینل کو دیے گئے بیانات میں کہا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب ایران کے پاس ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا اور وہ وقت تب ہوگا جب وہ عسکری طور پر لڑنے کے قابل نہیں رہے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کی شرائط کا تعین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے، انہوں نے اشارہ دیا کہ غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے کا معاملہ مختلف صورتیں اختیار کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ہیگستھ نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے امکان پر بھی بات کی اور کہا کہ واشنگٹن ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں کی حدود ظاہر نہیں کرے گا، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم وہ ہیں جو ایران کے خلاف جنگ میں شرائط طے کرتے ہیں، واشنگٹن ایران کے جوہری عزائم کو ختم کر دے گا۔ امریکی وزیر دفاع نے بتایا کہ امریکی فوج نے اب تک ایران کے اندر تقریباً 3 ہزار اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی اہداف پر وسیع حملے

اس سے قبل ایک اعلیٰ امریکی فوجی اہلکار نے اطلاع دی ہے کہ امریکی افواج نے ایران میں وسیع پیمانے پر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان اہداف میں پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ مراکز، میزائل، ان کے لانچنگ پیڈز اور ایران کے بقیہ فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ اور بنجمن نیتن یاھو کے زیرِ اقتدار اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کیا تھا جس کے نتیجے میں متعدد ممتاز ایرانی رہنما ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایرانی رہبر علی خامنہ ای، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور اور مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف عبدالرحیم موسوی شامل ہیں۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے جس میں اسرائیلی اہداف کی جانب میزائل اور ڈرون فائر کرنا اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں