حملہ ہوا تو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا دیں گے:ایران کی وارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دی گئی مہلت کے ردعمل میں ایران کی دھمکیاں مسلسل جاری ہیں۔ یہ مہلت ہفتے کی شام دی گئی تھی جو آج پیر کی شام ختم ہو رہی ہے۔

ایرانی کونسلِ دفاع نے آج ایک بیان میں کہا کہ جنگ میں شامل نہ ہونے والے ممالک کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے کا واحد راستہ تہران کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی ہے۔

مزید برآں ایران نے عندیہ دیا کہ اگر اس کے ساحلوں یا جنوبی جزیروں پر حملہ کیا گیا تو ایرانی افواج مواصلاتی رابطے منقطع کر دیں گی اور سمندر میں بارودی سرنگیں بچھا دیں گی۔

یہ اشارہ بالواسطہ طور پر ان خبروں کی جانب ہے ،جن میں کہا گیا ہے کہ امریکا ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے جزیرہ خارک جو ملک کی تیل برآمدات کا مرکزی مرکز ہے،پر قبضہ یا محاصرہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، تاکہ تہران کو تمام جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے پر مجبور کیا جا سکے۔



فوری اور تباہ کن ردعمل

اس کے علاوہ ایرانی کونسلِ دفاع نے زور دے کر کہا کہ ایرانی افواج کسی بھی بجلی گھروں یا توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کا "جوابی، فوری اور تباہ کن ردعمل" دینے کی پابند ہیں۔

ادھر پاسدارانِ انقلاب نے بھی آج اس سے قبل ملک کی توانائی تنصیبات پر کسی بھی حملے کا جواب دینے کی دھمکی دی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر خطرے کا اسی سطح کے ردعمل کے ساتھ جواب دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔

انہوں نے امریکی افواج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: اگر آپ بجلی کے نیٹ ورک پر حملہ کریں گے تو ہم بھی خطے میں بجلی کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنائیں گے۔

مزید کہا کہ اگر بجلی گھروں پر حملہ ہوا تو ایران اسرائیلی پاور پلانٹس اور ان تنصیبات کو نشانہ بنائے گا جو خطے میں امریکی اڈوں کو بجلی فراہم کرتی ہیں۔

قیادت کی مایوسی

دوسری جانب سینٹکام کے کمانڈر بریڈ کوپر نے کہا کہ ایران کے اقدامات بڑھتے ہوئے دباؤ اور اس کی قیادت کی مایوسی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج ایران کی میزائل اور ڈرون بنانے کی صلاحیت کو کم کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔

انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں مزید کہا کہ ایران کے خلاف مہم اپنے اہداف حاصل کر رہی ہے اور طے شدہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔

ادھر روس اور چین دونوں نے جنگ کے پھیلاؤ اور اس کے عالمی معیشت پر اثرات سے خبردار کیا۔ روسی نائب وزیر خارجہ آندرے رودینکو نے کہا کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز کی بندش کی حمایت نہیں کرتا، تاہم ایران کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔

انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: یقیناً ہم آبنائے ہرمز کی بندش کے خلاف ہیں، لیکن اس معاملے کو مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو دیگر ممالک کی طرح اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، جیسا وہ مناسب سمجھے، تاہم یہ بھی واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم وہاں ہونے والی ہر چیز کی حمایت کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے ہفتے کی شام ایران کو اہم آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی تھی، جہاں سے دنیا بھر میں تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔

اس کے جواب میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر کہا کہ آبنائے ہرمز بند نہیں، لیکن امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے باعث جہاز رانی متاثر ہے اور تجارتی جہاز ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیل اور امریکا نے تہران سمیت مختلف علاقوں پر شدید فضائی حملے کیے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خلیجی ممالک کی جانب میزائل داغے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو دھمکیاں دیں۔

اس صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز عملاً بند ہو گئی، جہاز رانی متاثر ہوئی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں