ایک خطرناک ایجاد سمندروں میں تباہی پھیلانے والا ہتھیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

قدیم زمانے میں دشمن کے جہازوں کو غرق کرنا ایک مشکل اور پیچیدہ عمل تھا، کیونکہ اس کے لیے یا تو سمندر میں براہِ راست دشمن سے ٹکر لینا پڑتی تھی یا توپ خانے سے گولہ باری کرنی ہوتی تھی یا پھر جہازوں کے نیچے بارودی مواد نصب کرنا پڑتا تھا۔

انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں صورتحال یکسر بدل گئی اور یہ تبدیلی انگریز انجینئر اور موجد رابرٹ وائٹ ہیڈ (Robert Whitehead) کی بدولت ممکن ہوئی۔

آسٹریا میں قیام کے دوران اپنی تحقیق اور مشاہدات کے نتیجے میں انہوں نے جدید ٹارپیڈو ایجاد کیا، جو بہت جلد جنگی جہازوں اور آبدوزوں کے لیے ایک اہم اور بنیادی ہتھیار بن گیا۔

رابرٹ وائٹ ہیڈ کی تصویر
رابرٹ وائٹ ہیڈ کی تصویر

رابرٹ وائٹ ہیڈ کی آسٹریا منتقلی

مانچسٹر کے میکینک انسٹیٹیوٹ سے کامیاب تعلیمی سفر مکمل کرنے کے بعد انگلش انجینئر رابرٹ وائٹ ہیڈ جو 3 جنوری 1823 کو بولٹن (Bolton) میں پیدا ہوئے، فرانس کا رخ کیا ،جہاں انہوں نے ٹولون (Toulon) کے شپ یارڈ میں فلپ ٹیلر اینڈ سنز کے لیے کام کیا۔

بعد ازاں وہ اٹلی کے شہر میلان منتقل ہوئے، جہاں کچھ عرصہ انجینئرنگ کے شعبے سے وابستہ رہے اور پھر آخرکار آسٹریا جا پہنچے، خاص طور پر ٹریئسٹ (Trieste) کے علاقے میں جو بحیرہ ایڈریاٹک کے کنارے واقع ہے۔

آسٹریا میں قیام کے دوران رابرٹ وائٹ ہیڈ نے اپنی مہارت اور کام میں مہارت کے باعث خاصی شہرت حاصل کی۔

اسی بنا پر انہیں ریئیکا (Rijeka) کے علاقے میں واقع Fonderia Metalli نامی ادارے میں کام کے لیے بلایا گیا، جو اس وقت فیومی (Fiume) کے نام سے جانا جاتا تھا۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ آسٹریا کی بحریہ بھی اس ادارے کی اہم گاہکوں میں شامل تھی، جہاں وائٹ ہیڈ خدمات انجام دے رہے تھے۔

اسی تعلق کی بدولت رابرٹ وائٹ ہیڈ کے روابط آسٹریا کی بحریہ کے کئی اعلیٰ عہدیداروں سے استوار ہوئے، جن میں نمایاں نام انجینئر اور لیفٹیننٹ جیووانی لوپس (Giovanni Luppis) کا تھا، جن سے ان کی ملاقات انیسویں صدی کے ساٹھ کی دہائی کے آغاز میں ہوئی۔

رابرٹ وائٹ ہیڈ اپنے بیٹے کے ساتھ 1875 کے آس پاس تارپیڈو کے قریب
رابرٹ وائٹ ہیڈ اپنے بیٹے کے ساتھ 1875 کے آس پاس تارپیڈو کے قریب


وائٹ ہیڈ ٹارپیڈو کا ڈیزائن

اس دور میں جیووانی لوپس کے ذہن میں ایک ایسے چھوٹے دھماکہ خیز کشتی بنانے کا خیال تھا جسے دور سے کنٹرول کر کے دشمن کے جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔

اس مقصد کے لیے اس آسٹریائی لیفٹیننٹ نے کئی ڈیزائن اور تجاویز بھی پیش کیں تاکہ اپنی سوچ کو عملی شکل دے سکے، مگر اس وقت کی ٹیکنالوجی اور درستگی کی کمی کے باعث اس کا تصور مکمل طور پر واضح اور قابلِ عمل نہ تھا۔

جیووانی لوپس کے اسی خیال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، انگلش انجینئر رابرٹ وائٹ ہیڈ نے اس دھماکہ خیز کشتی کے تصور میں بڑی تبدیلیاں کیں اور اسے مزید ترقی دے کر ایک خودکار (خود چلنے والا) ٹارپیڈو تیار کیا، جو بعد میں ''وائٹ ہیڈ ٹارپیڈو'' کے نام سے مشہور ہوا۔

وائٹ ہیڈ ٹارپیڈو کے اجزاء کی ایک فنکار کی پیش کش

وائٹ ہیڈ کے ابتدائی ٹارپیڈو ماڈلز کے مطابق اس کی لمبائی تقریباً 340 سینٹی میٹر اور چوڑائی قریب 36 سینٹی میٹر تھی، جبکہ اس کا وزن 845 پاؤنڈ تھا۔

اس میں ایک پچھلا پروپیلر (پنکھا) اور ہوا کے دباؤ سے چلنے والا انجن نصب تھا، جس کی بدولت یہ تقریباً 7 ناٹ کی رفتار حاصل کر سکتا تھا۔

وائٹ ہیڈ کے حساب کے مطابق یہ ٹارپیڈو تقریباً 50 کلوگرام دھماکہ خیز مواد اٹھانے کی صلاحیت رکھتا تھا اور 700 میٹر دور تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا تھا۔

بعد ازاں 1870 تک رابرٹ وائٹ ہیڈ نے اس میں مزید بہتریاں کیں، جس کے نتیجے میں اس کی رفتار بڑھ کر 17 ناٹ تک پہنچ گئی۔

ٹارپیڈو کے استعمال کا پھیلاؤ

وائٹ ہیڈ ٹارپیڈو اپنی نوعیت کا ایک منفرد ہتھیار تھا، کیونکہ یہ پانی کے اندر رہتے ہوئے بغیر ڈوبے یا راستہ بدلے اپنے ہدف کی طرف بڑھ سکتا تھا اور اسے نشانہ بنا سکتا تھا۔

انیسویں صدی کی ستر کی دہائی میں کئی ممالک نے اسے خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی، تاکہ اسے تیار کر کے اپنی بحری افواج کو اس سے لیس کیا جا سکے۔

اس دوران امریکہ ان ممالک میں سرفہرست تھا ،جس نے نہ صرف یہ ٹارپیڈو حاصل کیا بلکہ اس کے ڈیزائن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اس میں بہتریاں بھی کیں۔

متعدد ذرائع کے مطابق وائٹ ہیڈ ٹارپیڈو کو پہلی بار کامیابی سے 1878 کی روس-عثمانیہ جنگ کے دوران استعمال کیا گیا، جب روسی افواج نے اس کی مدد سے ایک عثمانی جہاز کو غرق کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں